رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا پھر وہ یہ فتویٰ پوچھنے کے لیے نکلا کہ اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں؟چنانچہ ایک راہب کے پاس آکراس نے پوچھاکہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟اس نے کہہ دیاکہ نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس راہب کو قتل کردیا اور پھر لوگوں سے یہی سوال کرتا رہا کہ میری توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ تو ایک شخص نے اس کو یہ بتایا کہ فلاں فلاں گاؤں میں جاؤ وہاں نیک لوگ رہتے ہیں وہاں تمہاری توبہ مقبول ہوجائے گی یہ شخص اس گاؤں کے اِرادہ سے چلا مگر راستے ہی میں اس کی موت آگئی ۔تو یہ شخص منہ کے بل آگے کو گرا۔ اور مشقت کرکے کچھ اپنے سینے کو اس گاؤں کی طرف بڑھادیا۔فوراًہی رحمت اورعذاب کے دونوں فرشتے آگئے۔عذاب کے فرشتے اس کودوزخ کی طرف لے جاناچاہتے تھے کہ یہ بہت سے انسانوں کاقاتل ہے اوررحمت کے فرشتے اس کوجنت کی طرف لے جاناچاہتے تھے کیونکہ یہ توبہ کی نیت سے اس گاؤں کی طرف چل پڑا تھا اگرچہ ابھی وہاں تک پہنچا نہ تھا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا کہ وہ گاؤں جہاں یہ جارہا تھا قریب ہوجائے اور وہ گاؤں جہاں سے چلا تھا دور ہوجائے چنانچہ ایسا ہوگیاکہ جب اللہ تعالیٰ نے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت یہ قاتل