| بہشت کی کنجیاں |
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرْحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ رَاحِلَتُہٗ بِاَرْضٍ فَلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْھَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَاَیِسَ مِنْھَا فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّھَا قَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ فَبَیْنَمَا ھُوَکَذٰلِکَ اِذْ ھُوَ بِھَا قَائِمَۃً عِنْدَہٗ فَاَخَذَ بِخِطَا مِھَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرْحِ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرْحِ۔رواہ مسلم(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۳)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے توبہ کرنے سے جب بندہ توبہ کرتا ہے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی اس آدمی کی خوشی سے بھی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ایک بے آب و گیاہ زمین میں تھا۔ ناگہاں اس کی سواری بدک کر بھاگ گئی اور اسی سواری پر اُس کا کھانا پانی بھی تھاجب وہ اس سواری سے ناامید ہوگیا تو ایک درخت کے پاس آکر اس کے سائے میں لیٹ گیااوروہ اپنی سواری سے مایوس ہوچکاتھاگویامرنے کے لیے لیٹ گیا۔ پس اسی درمیان میں کہ وہ اسی مایوسی کے عالم میں تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہے تو اس نے اس کی مہار پکڑلی پھر اس کو اس قدر خوشی ہوئی کہ وہ بجائے اس کے کہ یہ کہتا کہ یا اللہ!عزوجل تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں یہ کہنے لگا کہ یا اللہ!عزوجل تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں مارے خوشی کے اس سےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الدعوات،باب الاستغفار والتوبۃ،الحدیث۲۳۳۲،ج۱، ص۴۳۶