| بہشت کی کنجیاں |
یُرْزَقُ اَیْ رِزْقًا مَعْنَوِیًّا فَاِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ فِیْ حَقِّ الشُّھَدَاءِ مِنْ اُمَّتِہٖ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ (1)فَکَیْفَ سَیِّدُھُمْ بَلْ رَئِیْسُھُمْ وَلَا یُنَافِیْہِ اَنْ یَکُوْنَ ھُنَاکَ رِزْقٌ حِسِّیٌّ اَیْضًا وَھُوَالظَّاھِرُ الْمَتَبَادِرُ(2)(مرقاۃ ملخصًا)
یعنی انہیں رزقِ معنوی دیا جاتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کے شہیدوں کے بارے میں فرمایا کہ '' بلکہ وہ زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں۔'' تو پھر کیا حال ہوگا ان شہیدوں کے سردارکابلکہ رئیس کا اور یہ جو ہم نے لکھ دیا ہے کہ رزق معنوی دیاجاتا ہے تو یہ اسکے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق حسی بھی عطا فرمائے اور یہاں یہی رزق حسی مراد لینا ظاہر ہے جو جلد ذہنوں میں آجاتا ہے۔ (یعنی ظاہری طور پر کھانا پینا)
بہرحال درود شریف کی کثرت اعمال جنت میں سے ایک بہت ہی امید افزا عمل ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ درود شریف کا وظیفہ ضرور پڑھتا رہے تاکہ قیامت کے دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا قرب نصیب ہو جو دونوں جہان کی نعمتوں میں سب سے زیادہ عظیم نعمت اوردارین کی دولتوں میں سب سے بڑھ کرانمول دولت ہے۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔
(۲۶) توبہ و استغفار
اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اوراپنے گناہوں کی مغفرت کی دعا مانگنا ۔ یہ بھی اعمالِ جنت میں سے ایک عمل ہے اور بندے کی توبہ سے اللہ عزوجل کو کتنی خوشی ہوتی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔ (پ۴،ال عمرٰن:۱۶۹) 2۔۔۔۔۔۔مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلوٰۃ،تحت الحدیث۱۳۶۶،ج۳،ص۴۶۰