Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
148 - 243
نے ذلیل و خوار ہونے کی دعا فرمائی ہے۔

(۱) جس کے سامنے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کاذکرہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔

(۲)جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور رمضان میں عبادت کرکے اپنے کو مغفرت کے لائق نہ بنایا۔

(۳) وہ شخص کہ جس کے والدین بڑھاپے کی حالت میں اُس کے پاس رہے اور اس نے والدین کی خدمت کرکے اپنے کو جنت کا اہل نہ بنایا۔

    اللہ اکبر!ان تینوں کی منحوسیت میں کیا شبہ کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ان تینوں سے اِس قدر خفا ہیں کہ ان لوگوں کی ذلت و خواری کی دعا فرمارہے ہیں۔
 (معاذ اللہ تعالیٰ)
 (۴) حدیث نمبر ۵ کا مضمون بالکل ظاہر ہے کہ کوئی دعا دربارِ الٰہی میں پہنچتی ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کے درمیان معلق ہی رہتی ہے جب تک درود شریف نہ پڑھا جائے اس لیے مستحب ہے کہ ہر دعا کے اول وآخر میں درود شریف پڑھ لیا جائے جیسا کہ اہلِ سنت وجماعت کا طریقہ ہے۔

(۵)حدیث نمبر ۶سے ثابت ہوگیاکہ حضرات انبیاء علیہم الصلاۃوالسلام بالخصوص حضرت سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنی اپنی قبروں میں لوازمِ حیات جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور ہر گز ہرگز ان کے جسموں کو مِٹی نہیں کھاسکتی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام ٹھہرادیا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے جسموں کو کھاسکے۔

    اس حدیث کا آخری فقرہ کہ
'' فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ''
یعنی اللہ عزوجل کے نبی زندہ ہیں اور انہیں روزی دی جاتی ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس بارے میں
Flag Counter