(لمعات شرح مشکوٰۃ)
روح کے لوٹنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ بدن سے جدا ہونے کے بعد پھر روح بدن میں آئی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم عالمِ برزخ میں ملکوت کے ماحول میں رب العزۃ عزوجل کے مشاہدہ میں مشغول ہیں جیسا کہ دنیا میں نزول وحی اور دوسرے خاص احوال میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس قدر مشغول و مستغرق ہو جایا کرتے تھے کہ آپ کی توجہ دوسری چیزوں کی طرف نہیں ہوا کرتی تھی تو اس مشاہدہ واستغراق سے افاقہ ہونے اور آپ کی توجہ دوسری طرف مبذول و متوجہ ہونے کو روح لوٹانے کے لفظ سے بیان کردیا گیا ہے۔(لمعات، مصنفہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ)
(۳) حدیث نمبر ۴ کا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تین شخصیتوں کے لیے یہ دعا فرمائی کہ ''ان کی ناک مٹی میں مل جائے۔'' ناک مٹی میں مل جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ذلیل و خوار اور ناکام و نامراد ہوجائیں۔ عرب کے لوگ جب کسی آدمی کو انتہائی ذلیل کرتے تھے تو اس کو مجبور کرتے تھے کہ وہ اپنی ناک کوزمین پر رگڑ کر اُس کو خاک آلود کرے۔ یہیں سے''رَغِمَ اَنْفُہ، ''کا محاورہ چل پڑا کہ جب کسی کو انتہائی ذلیل کردیا جاتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے:''رَغِمَ اَنْفُہ،'' یعنی اس کی ناک مٹی میں مل گئی ۔فرمان حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تین شخصوں کے لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم