چاہو مقرر کرلو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ توحضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ دن رات کا دو تہائی مقرر کرلوں؟تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ تم جتنا چاہو وقت مقررکرلو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں دن رات کا کل حصہ درود خوانی ہی میں خرچ کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو درود شریف تمہاری تمام فکروں اور غموں کو دور کرنے کے لیے کافی ہو جائے گااور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہوجائے گا۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۶)
(۲)حدیث نمبر۳ کامطلب ہے کہ جب میرا کوئی اُمتی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو اُس سلام کرنے والے کی طرف متوجہ فرمادیتا ہے اور میں اس کے سلام کے جواب دیتا ہوں۔روح کو لوٹانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کی روح جو آپ کے بدن سے جدا ہوچکی ہے وہ دوبارہ آپ کے بدن میں داخل کی جاتی ہے۔ بلکہ روح کو لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی روح رب العزۃجل جلالہ کے مشاہدہ میں ہر دم مستغرق رہتی ہے۔ مگر جب کوئی امتی سلام کرتا ہے تو اللہ تعالی آپ کی روح کو عالم استغراق سے سلام کرنے والے کی طرف متوجہ فرمادیتا ہے اور آپ متوجہ ہو کر اس کے سلام کا جواب عطا فرماتے ہیں۔چنانچہ حضرت شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ