میرے قریب وہ شخص رہے گاجودنیامیں سب سے زیادہ درودشریف پڑھتارہاہوگا۔
حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم قیامت کے دن کبھی مقام محمود یعنی شفاعت کبریٰ کے مقام میں ہوں گے، کبھی حوض کوثر کے پاس رہیں گے، پھر آخر میں فردوس اعلیٰ کی اُس منزل اعلیٰ میں تشریف فرماہوں گے جو رب العالمین نے خاص طور پر اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لیے تیار کررکھا ہے، بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم قیامت کے دن جہاں بھی اور جس مقام پر بھی ہوں گے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سب سے زیادہ قُرب اس خوش نصیب کو حاصل رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ درود شریف پڑھتا رہا ہوگا۔
درودشریف کی کثرت کے بارے میں ترمذی شریف کی ایک حدیث بہت زیادہ رقت خیز وعبرت انگیز ہے۔
حدیث:
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں بہت زیادہ آپ پر درود پڑھا کرتا ہوں تو آپ بتادیجئے کہ دن رات کا کتنا حصہ میں درود خوانی کے لیے مقرر کردوں؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر تم چاہو مقرر کرلو ۔تو میں نے کہا کہ دن رات کا چوتھائی حصہ میں درود خوانی کے لیے مقرر کرلوں؟ توحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر چاہو مقرر کرلو اگر تم چوتھائی سے زیادہ مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہترہی ہوگا۔ توحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میں دن رات کا نصف حصہ درود خوانی کے لیے مقرر کرلوں؟تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر تم