Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
119 - 243
حدیث:۳
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ مَرَّ رَجَلٌ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِیْہِ عُیَیْنَۃٌ مِّنْ مَّاءٍ عَذْبَۃٌ فَاَعْجَبَتْہٗ فَقَالَ لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَاَقَمْتُ فِیْ ھٰذَا الشِّعْبِ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَاِنَّ مَقَامَ اَحَدِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَفْضَلُ مِنْ صَلٰوتِہٖ فِیْ بَیْتِہٖ سَبْعِیْنَ عَامًا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ وَیُدْخِلَکُمُ الْجَنَّۃَ اُغْزُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ مَنْ قَاتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔رواہ الترمذی(1)
 (مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۳۲)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ علیہم الرضوان میں سے ایک مرد کا ایک ایسی گھاٹی میں گزر ہوا کہ اس میں میٹھے پانی کا ایک چشمہ تھا۔جس نے اس کو تعجب میں ڈال دیا تو وہ کہنے لگا کہ کاش! میں تمام لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں مقیم ہوجاتا جب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اُس شخص کا ذکرکیاگیاتو آپ نے اُس شخص سے فرمایاکہ تم ایسا مت کرو اس لیے کہ تم لوگوں میں سے کسی کا جہاد میں ایک پڑاؤ کرنا اپنے گھر میں رہ کر ستر برس نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔ کیا تم لوگ اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما کر تمہیں اپنی جنت میں داخل کر دے۔ تم لوگ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرتے رہو،جو شخص اونٹنی دوہنے کی مدت بھر بھی اللہ عزوجل کی راہ میں جنگ کریگا تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الثانی،الحدیث:۳۸۳۰،ج۲،ص۳۰
Flag Counter