| بہشت کی کنجیاں |
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْلَا اَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَا تَطِیْبُ اَنْفُسُھُمْ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنِّیْ وَلَا اَجِدُ مَا اَحْمِلُھُمْ عَلَیْہِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُوْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُ اَنْ اُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ۔متفق علیہ(1)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۲۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ کچھ مومن مرد ایسے ہیں کہ مجھ سے بچھڑ جانا ان کے دلوں کو اچھا نہیں لگتا اور میں اِتنی سواریاں نہیں پاتاکہ ان کو سوار کرادوں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو میں کبھی کسی ایسے لشکرسے پیچھے نہ رہ جاتا جو اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے جارہاہو۔ اور مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یقیناً میری یہ تمناہے کہ میں اللہ عزوجل کی راہ میں قتل کیاجاؤں پھرزندہ کیاجاؤں، پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔ یہ بخاری ومسلم کی حدیث ہے۔
حدیث:۵عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِبَاطُ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَّقِیَامِہٖ وَاِنْ مَاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ وَاُجْرِیَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ وَاَمِنَ الفَتَّانَ۔رواہ مسلم(2)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۲۹)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الاول،الحدیث:۳۷۹۰،ج۲،ص۲۳ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الاول،الحدیث:۳۷۹۳،ج۲،ص۲۴