| بہشت کی کنجیاں |
مدینہ طیبہ کا سفر کیا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی دوسرے کام مثلاً تجارت وغیر ہ کی نیت سے مدینہ منورہ جائے اور ضمنی طور پر زیارت بھی کرلے یا بالقصد اور عمداً کا مطلب یہ ہے کہ بالکل ہی اخلاص کے ساتھ زیارت کرے اور بجز طلبِ ثواب کے اور کوئی دوسری نیت یا غرض مقصود نہ ہو۔
بعض عارفین کے متعلق مشہور ہے کہ وہ حج کے لیے گئے تو حج کے بعد مدینہ طیبہ کی زیارت کے لیے نہیں گئے اور یہ کہا کہ یہ سفر تو ہم نے حج کی نیت سے کیا ہے تو سفر حج کے تابع بناکر ضمنی طورپرہم روضہ اقدس کی زیارت نہیں کریں گے بلکہ گھرجاکرپھر خاص روضہ انورکی زیارت کی نیت سے دوسراسفرکرکے ہم روضہ اقدس کی زیارت کریں گے تاکہ بالقصد اورعمداًحضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی زیارت کے لیے ہماراجاناہو۔(1)
(حاشیہ مشکوٰۃ،ص۲۴۰بحوالہ مرقاۃ)(۲۱) جہاد
حدیث:۱
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللہِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَوْجَلَسَ فِیْ اَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ اَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ اَعَدَّھَا اللہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ(2)
(بخاری،ج۱،ص۳۹۱)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مرقاۃ المفاتیح،کتاب المناسک،تحت الحدیث:۲۷۵۵،ج۵،ص۶۳۱ 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھادوالسیر،باب درجات...الخ،الحدیث:۲۷۹۰،ج۲، ص۲۵۰