| بہشت کی کنجیاں |
زَارَنِیْ مُتَعَمِّدًا کَانَ فِیْ جَوَارِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمَنْ سَکَنَ الْمَدِیْنَۃَ وَصَبَرَ عَلٰی بَلَائِھَا کُنْتُ لَہٗ شَھِیْدًا وَّشَفِیْعًا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمَنْ مَاتَ فِیْ اَحَدِ الْحَرَمَیْنِ بَعَثَہُ اللہُ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۴۰) آل خطاب کے ایک مرد سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کیاہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ جوشخص بالقصدمیری زیارت کو آیاوہ قیامت کے دن میری محافظت میں رہے گااورجوشخص مدینہ میں سکونت کریگا اورمدینہ کی تکالیف پر صبرکریگاتومیں قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گااورجوشخص حرمین(مکہ،مدینہ)میں سے کسی ایک میں مرے گااللہ تعالیٰ اس کو اس حال میں قبر سے اٹھائے گا کہ وہ قیامت کے خوف سے امن میں رہے گا۔
تشریحات و فوائد
(۱) مدینہ منورہ میں زندگی کی آخری سانس تک سکونت رکھنا اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنایہاں تک کہ اس مقدس شہر میں وفات ہوجائے۔یہ بھی جنت دلانے والے اعمال میں سے ایک بہت ہی امید افزا عمل ہے۔ چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ''جو مدینہ میں مرسکے اس کو چاہیے کہ وہ مدینہ ہی میں مرے اس لیے کہ جو مدینہ میں مرے گا میں اُس کی شفاعت کروں گا ۔(2)اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۴۰) (۲) بالقصد اور عمداً زیارت کرنے کا یہ مطلب ہے کہ خاص زیارت ہی کی نیت سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب المناسک،الفصل الثالث،الحدیث:۲۷۵۵،ج۱،ص۵۱۲ 2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فی فضل المدینۃ،الحدیث:۳۹۴۳،ج۵، ص۴۸۳