| بہشت کی کنجیاں |
جب کہ وہ قرآنی احکام پر عمل بھی کرتاہو،اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے اس کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ (۲) حدیث نمبر ۲ سے یہ معلوم ہوا کہ نہ صرف قرآن پڑھنے والے ہی کے لیے جنت کی گارنٹی ہے بلکہ اس کے ماں باپ کو بھی اللہ تعالیٰ بہشتی تاج پہنا کر ان دونوں کو بھی جنت عطا فرمائے گا۔ (۳) حدیث نمبر ۳ سے معلوم ہوا کہ قرآن کی ایک سورۃ
قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ
کو بستر پر سوتے وقت پڑھنے والے کو جنت کی بشارت مل گئی تو ظاہر ہے کہ جو پورا قرآن مجید اپنی زندگی میں سینکڑوں بارختم کریگاا س کوجنت کے درجات میں سے کتنا بڑادرجہ ملے گا۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
(۴)قرآن مجید کی تلاوت کے آداب میں سے یہ بہت ہی اہم ہے کہ قرآن مجید کو باوضو قرآن مجید میں دیکھ کر پڑھے اور اس توجہ اور تصور کے ساتھ تلاوت کرے کہ میں خداعزوجل کے فرمانوں کوپڑھ رہاہوں اورگویاخداوندقدوس عزوجل مجھ سے کلام فرمارہا ہے۔دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کا تصور جمائے نہایت ہی تواضع و انکساری اور عاجزی کے ساتھ ہر آیت کو پڑھے۔ واضح رہے کہ قرآن مجید کو دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے زیادہ افضل ہے کیونکہ دیکھ کر پڑھنے میں آنکھوں اور زبان دونوں سے نیکی کماناہے اس لیے کہ جس طرح قرآن کو پڑھنا عبادت ہے اسی طرح قرآن کے حروف کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
(۲۰) مدینہ طیبہ کی سکونت
عَنْ رَجُلٍ مِّنْ اٰلِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ