| بہشت کی کنجیاں |
بہانے(قربانی کرنے)سے زیادہ اللہ عزوجل کے نزدیک پیارانہیں ہے اوربے شک وہ قیامت کے دن اپنے سینگوں اوربالوں اورکھروں کے ساتھ آئے گااوربے شک قربانی کاخون زمین پرگرنے سے پہلے اللہ عزوجل کے دربارمیں مقبولیت کی جگہ میں پڑجاتاہے لہٰذا تم لوگ اس کوخوش دلی کے ساتھ کرو۔اس حدیث کوترمذی وابن ما جہ نے روایت کیا ہے۔
تشریحات و فوائد
حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے کہ یو م النحریعنی ذوالحجہ کی دس تاریخ عیداضحی کے دن اللہ تعالیٰ کو مسلمان کا کوئی عمل بھی قربانی سے زیادہ محبوب اور پیارا نہیں ہے۔ اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ عزوجل کے دربار میں مقبولیت کے مقام میں پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مسئلہ ہے کہ قربانی کے جانور کو تول کر اگر اس کے وزن کے برابر چاندی یا سونا بقرہ عید کے دن خیرات کردیں جب بھی اتنا ثواب نہیں ملے گا جتنا کہ اس جانورکی قربانی میں ثواب ملے گالہٰذااے مسلمانو!تمہیں چاہیے کہ قربانی کو نہایت ہی خوشی اورخوش دلی کے ساتھ کیاکرو۔
(۱۹) تلاوتِ قرآن مجید
حدیث:۱
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ اِقْرَأْ وَاَرْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَأُھَا۔رواہ احمد والترمذی وابوداود والنسائی(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۶)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی،الحدیث:۲۱۳۴،ج۱، ص۴۰۲