جتنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے سال بھر کے تمام دنوں میں کوئی عمل اتنا پسند نہیں یہ سن کر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کیاخدا عزوجل کی راہ میں جہادکرنابھی ان دنوں میں عمل صالح سے زیادہ خدا عزوجل کو پسند نہیں؟ توکیا ارشاد فرمایا کہ ہاں جہاد بھی دوسرے دنوں میں کرنا ان دس دنوں میں عمل صالح کرنے سے بڑھ کر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ۔ہاں اگر کوئی مجاہد اپنی جان و مال لے کر جہاد کے لیے نکلااور پھر خود شہید ہوگیا اور اُس کا مال کفار نے لوٹ لیا کہ وہ اپنے گھر جان و مال میں سے کچھ لے کر نہیں لوٹا تو بے شک اس مجاہد کا جہاد فی سبیل اللہ تو عشرہ ذوالحجہ میں عمل صالح کرنے سے افضل ہے ورنہ کسی اور مجاہد کا جہاد عشرہ ذوالحجہ میں عمل صالح کرنے سے بہتر اور بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔
(۲) علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ذوالحجہ کے دس دن افضل ہیں یا رمضان شریف کے آخری دس دن زیادہ افضل ہیں، چنانچہ عالموں نے عشرہ ذوالحجہ کو افضل مانااورکچھ اہلِ علم نے رمضان شریف کے آخری عشرہ کوافضل بتایاہے لیکن حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ