| بہشت کی کنجیاں |
اللہ تعالیٰ اپنا گھر اوراپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا روضہ انور دکھائے۔(آمین)
(۱۷) عشرہ ذوالحجہ
عشرہ ذوالحجہ کے فضائل میں بخاری شریف کی مذکورہ ذیل حدیث بہت مشہور اور بڑی مؤثر ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اَیَّامٍ اَلْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْھِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللہِ مِنْ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ الْعَشَرَۃِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیْءٍ ۔رواہ البخاری(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۲۸)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :کسی دنوں میں عمل صالح اللہ تعالیٰ کو اتنازیادہ پسند نہیں جتنے کہ ان دس دنوں(عشرہ ذوالحجہ)میں۔ صحابہ علیہم الرضوان نے کہا کہ کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی اس سے زیادہ اللہ عزوجل کو پسند نہیں؟ توفرمایا کہ ہاں!جہاد فی سبیل اللہ بھی ان دنوں میں عمل صالح سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبو ب نہیں، ہاں لیکن وہ مرد جو اپنی جان اور مال لے کر جہاد میں نکلا اور جان و مال میں سے کوئی بھی چیز واپس لے کر نہیں لوٹا ۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیاہے۔تشریحات و فوائد
(۱)مطلب یہ ہے کہ سال بھر کے تمام دنوں میں ذوالحجہ کے دس دنوں میں عمل صالح
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الصلاۃ،باب فی الاضحیۃ،الحدیث:۱۴۶۰،ج۱،ص۲۸۱