فرمایا:تمھارے قبیلہ میں کسی نے خیانت کی ہے اس کے بعد وہ لوگ سونے کا ایک سر لائے جو گائے کے سر برابر تھا، اوس کو اس غنیمت میں شامل کر دیا پھر حسب دستور آگ آئی اور کھا گئی۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ ہم سے قبل کسی کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی اﷲ (عزوجل) نے ہمارے ضعف و عجزکی وجہ سے اسے حلال کر دیا۔'' (1)
حدیث ۴: ابو داود نے ابو موسی اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں ہم حبشہ سے واپس ہوئے اوس وقت پہنچے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ابھی خیبر کو فتح کیا تھا، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ہمارے لیے حصہ مقرر فرمایا اور ہمیں بھی عطا فرمایا، جو لوگ فتح خیبر میں موجود نہ تھے اون میں ہمارے سوا کسی کو حصہ نہ دیا، صرف ہماری کشتی والے جتنے تھے حضرت جعفر اور اون کے رفقا (2)انھیں کو حصہ دیا۔ (3)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں یزید بن ہرمز سے مروی کہ نجدہ حروری نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما کے پاس لکھ کر دریافت کیا کہ غلام وعورت غنیمت میں حاضر ہوں تو آیا ان کو حصہ ملے گا؟ یزیدسے فرمایا''کہ لکھ دو کہ ان کے لیے سہم (حصہ) نہیں ہے، مگر کچھ دیدیا جائے''۔ (4)
حدیث ۶: صحیحین میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اگر لشکر میں سے کچھ لوگوں کو لڑنے کے لیے کہیں بھیجتے تو انھیں علاوہ حصہ کے کچھ نفل (انعام) عطا فرماتے۔ (5)
حدیث ۷: نیزصحیحین میں اونھیں سے مروی، کہتے ہیں حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ہمیں حصہ کے علاوہ خمس (6) میں سے نفل دیا تھا،مجھے ایک بڑا اُونٹ ملا تھا۔(7)
حدیث ۸: ابن ماجہ و ترمذی ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی،