حدیث ۱: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمت حلال نہیں ہوئی، اﷲ تعالیٰ نے ہمارا ضعف و عجز دیکھ کر اسے ہمارے لیے حلال کر دیا۔'' (2)
حدیث ۲: سنن ترمذی میں ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اﷲ (عزوجل) نے مجھے تمام انبیا سے افضل کیا۔'' یا فرمایا: ''میری امت کو تمام امتوں سے افضل کیا اور ہمارے لیے غنیمت حلال کی۔'' (3)
حدیث ۳: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک نبی (یوشع بن نون علیہ السلام) غزوہ کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی قوم سے فرمایا: کہ ایسا شخص میرے ساتھ نہ چلے، جس نے نکاح کیا ہے اور ابھی زفاف نہیں کیا ہے(4) اور کرنا چاہتا ہے اور نہ وہ شخص جس نے مکان بنایا ہے اور اوس کی چھتیں ابھی تیار نہیں ہوئی ہیں اور نہ وہ شخص جس نے گابھن جانور(5) خریدے ہیں اور بچہ جننے کا منتظر ہے (یعنی جن کے دل کسی کام میں مشغول ہوں وہ نہ چلیں صرف وہ لوگ چلیں جن کو ادھر کا خیال نہ ہو) جب اپنے لشکرکولے کر قریہ (بیت المقدس) کے قریب پہنچے، وقت عصر آگیا (وہ جمعہ کا دن تھا اور اب ہفتہ کی رات آنے والی ہے، جس میں قتال بنی اسرائیل پر حرام تھا) اونھوں نے آفتاب کو مخاطب کرکے فرمایا: تو مامور ہے اور میں مامور ہوں۔ اے اﷲ! (عزوجل) آفتاب کو روک دے، آفتاب رک گیا اور اﷲ (عزوجل) نے فتح دی اب غنیمتیں جمع کی گئیں اوسے کھانے کے لیے آگ آئی، مگر اوس نے نہیں کھایا (یعنی پہلے زمانہ میں حکم یہ تھا کہ غنیمت جمع کی جائے پھر آسمان سے آگ اوترتی اور سب کو جلا دیتی اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ کسی نے کوئی خیانت کی ہے اور یہاں بھی یہی ہوا) نبی نے فرمایا: کہ تم نے خیانت کی ہے، لہٰذا ہر قبیلہ میں سے ایک شخص بیعت کرے بیعت ہوئی ایک شخص کا ہاتھ اون کے ہاتھ سے چپک گیا،