کہ حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی تلوارذوالفقار بدر کے دن نفل میں ملی تھی۔ (1)
حدیث ۹: امام بخاری خولہ انصاریہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ''کچھ لوگ اﷲ (عزوجل) کے مال میں ناحق گھس پڑتے ہیں، اون کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔'' (2)
حدیث ۱۰: ابو داود بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ایک شتر(3) کے پاس تشریف لائے اوس کے کو ہان سے ایک بال لیکر فرمایا: ''اے لوگو! اس غنیمت میں سے میرے لیے کچھ نہیں ہے (بال کی طرف اشارہ کرکے) اور یہ بھی نہیں سوا خمس کے (کہ یہ میں لونگا) وہ بھی تمھارے ہی اوپر رد ہوجائیگا، لہٰذا سوئی اور تاگا جو کچھ تم نے لیا ہے حاضر کرو۔'' ایک شخص اپنے ہاتھ میں بالوں کا گچھا لے کر کھڑا ہوا اور عرض کی، میں نے پالان درست کرنے کے لیے یہ بال لیے تھے۔ حضور( صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے فرمایا: ''اس میں میرا اور بنی عبدالمطلب کا جو کچھ حصہ ہے وہ تمھیں دیا۔'' اوس شخص نے کہا، جب اس کا معاملہ اتنا بڑا ہے تو مجھے ضرورت نہیں یہ کہہ کر واپس کر دیا۔ (4)
حدیث ۱۱: ترمذی نے ابو سعید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور(صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم )نے قبل تقسیم غنیمت کو خریدنے سے منع فرمایا۔ (5)