| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
بلکہ اگر مسلمانوں کو حاجت ہو تو غلہ اور کپڑا بھی ان کے ہاتھ نہ بیچا جائے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: مسلمان آزاد مرد یا عورت نے کافروں میں کسی ایک کو یا جماعت یا ایک شہر کے رہنے والوں کو پناہ دیدی تو امان(2)صحیح ہے اب قتل جائز نہیں اگرچہ امان دینے والا فاسق یا اندھا یا بہت بوڑھا ہو۔ اور بچّہ یا غلام کی امان صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اونھیں قتال(3) کی اجازت مل چکی ہو ورنہ صحیح نہیں۔ امان صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ کفار نے لفظ امان سنا ہو اگرچہ کسی زبان میں ہو اگرچہ اس لفظ کے معنی وہ نہ سمجھتے ہوں اور اگر اتنی دور پر ہوں کہ سن نہ سکیں تو امان صحیح نہیں۔ (4)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: امان میں ضرر کا اندیشہ ہو تو بادشاہ ِاسلام اس کو توڑ دے مگر توڑنے کی اطلاع کردے اور امان دینے والا اگر جانتا تھا کہ اس حالت میں امان دینا منع تھااور پھر دیدی تو اوسے سزادی جائے۔ (5)(مجمع الانہر)
مسئلہ ۲۴: ذمی اور تاجر اور قیدی اور مجنون اور جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا اور ابھی ہجرت نہ کی ہو اور وہ بچہ اور غلام جنھیں قتال کی اجازت نہ ہو یہ لوگ امان نہیں دے سکتے۔(6) (درمختار)غنیمت کا بیان
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾ ) (8)
نفل کے بارے میں تم سے سوال کرتے ہیں تم فرما دو نفل اﷲ (عزوجل) ورسول کے لیے ہیں، اﷲ (عزوجل) سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو اور اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کی اطاعت کرو، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
اور فرماتا ہے:(وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختاروردالمختار''،کتاب الجھاد ،مطلب:فی بیان نسخ المثلۃ ، ج۶،ص۲۱۳.
2۔۔۔۔۔۔یعنی حفاظت کی ضمانت دینا،پناہ دینا۔ 3۔۔۔۔۔۔جہاد،جنگ۔
4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۱۴. و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثالث فی الموادعۃ والامان....إلخ،ج ۲،ص ۱۹۸،۱۹۹. 5۔۔۔۔۔۔''مجمع الانھر''،کتاب السیروالجھاد،ج۲،ص۴۱۹،۴۲۰. 6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۱۷،۲۱۸. 7۔۔۔۔۔۔پ ۹،الانفال :۱.