اور اگر ان میں سے کوئی خود لڑتا ہو یا اپنے مال یا مشورہ سے مدد پہنچاتا ہو یا بادشاہ ہو تو اُسے قتل کردیں گے۔ اور اگر مجنون کو کبھی جنون رہتا ہے اور کبھی ہوش تو اسے بھی قتل کردیں۔ اور بچہ اور مجنون کو اثنائے جنگ میں(1) قتل کریں گے جبکہ لڑتے ہوں اور باقیوں کو قید کرنے کے بعد بھی قتل کردیں گے۔ اور جنھیں قتل کرنا منع ہے اونھیں یہاں نہ چھوڑیں گے بلکہ قید کرکے دارالاسلام میں لائیں گے۔ (2)(درمختار، مجمع الانہر)
مسئلہ ۱۷: کافروں کے سرکاٹ کر لائیں یا اون کی قبریں کھود ڈالیں اس میں حرج نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: اپنے باپ دادا کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا ناجائز ہے مگر اوسے چھوڑے بھی نہیں بلکہ اوس سے لڑنے میں مشغول رہے کہ کوئی اور شخص آکر اوسے مار ڈالے۔ ہاں اگر باپ یا دادا خود اس کے قتل کا درپے ہو اور اسے بغیر قتل کیے چارہ نہ ہو تو مار ڈالے اور دیگر رشتہ داروں کے قتل میں کوئی حرج نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو صلح کرنا جائز ہے اگرچہ کچھ مال لے کر یا دے کر صلح کی جائے اور صلح کے بعد اگر مصلحت صلح توڑنے میں ہو تو توڑ دیں مگر یہ ضرور ہے کہ پہلے اونھیں اس کی اطلاع کردیں اور اطلاع کے بعد فوراً جنگ شروع نہ کریں بلکہ اتنی مہلت دیں کہ کافر بادشاہ اپنے تمام ممالک میں اس خبر کو پہنچاسکے۔ یہ اوس صورت میں ہے کہ صلح میں کوئی میعاد نہ ہو اور اگر میعاد ہو تو میعاد پوری ہونے پر اطلاع کی کچھ حاجت نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: صلح کے بعد اگر کسی کافر نے لڑنا شروع کیا اور یہ اونکے بادشاہ کی اجازت سے ہے تو اب صلح نہ رہی اور اگر بادشاہ کی اجازت سے نہ ہو بلکہ شخص ِخاص یا کوئی جماعت بغیر اجازتِبادشاہ برسرِپیکار ہے(6) تو صرف انھیں قتل کیا جائے ان کے حق میں صلح نہ رہی باقیوں کے حق میں باقی ہے۔(7) (مجمع الانہر)
مسئلہ ۲۱: کافروں کے ہاتھ ہتھیار اور گھوڑے اور غلام اور لوہا وغیرہ جس سے ہتھیار بنتے ہیں بیچنا حرام ہے اگرچہ صلح کے زمانہ میں ہو۔ یو ہیں تاجروں پر حرام ہے کہ یہ چیزیں اون کے ملک میں تجارت کے لیے لے جائیں