مسئلہ ۱۱: اگر کافروں نے چند مسلمانوں کو اپنے آگے کرلیا کہ گولی وغیرہ ان پر پڑے ہم ان کے پیچھے محفوظ رہیں گے جب بھی ہمیں باز رہنا جائز نہیں گولی چلائیں اور قصد کافروں کے مارنے کا کریں اگر کوئی مسلمان مسلمانوں کی گولی سے مرجائے جب بھی کفارہ وغیرہ لازم نہیں جبکہ گولی چلانے والے نے کافر پر گولی چلانے کا ارادہ کیا ہو۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: کسی شہر کو بادشاہ اسلام نے فتح کیا اور اوس شہر میں کوئی مسلمان یا ذمی ہے تو اہل شہر کو قتل کرنا جائز نہیں ہاں اگر اہلِ شہر میں سے کوئی نکل گیا تو اب باقیوں کو قتل کرنا جائز ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ جانے والا مسلمان یا ذمی ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: جو چیزیں واجب التعظیم ہیں(3) اون کو جہاد میں لے کر جانا جائز نہیں جیسے قرآن مجید، کتب فقہ و حدیث شریف کہ بے حرمتی کا اندیشہ ہے۔ یو ہیں عورتوں کو بھی نہ لے جانا چاہیے اگرچہ علاج و خدمت کی غرض سے ہو۔ ہاں اگر لشکر بڑا ہو کہ خوف نہ ہو تو عورتوں کو لے جانے میں حرج نہیں اور اس صورت میں بوڑھیوں اور باندیوں کو لے جانا اولیٰ ہے اور اگر مسلمان کافروں کے ملک میں امان لے کر گیا ہے تو قرآن مجید لے جانے میں حرج نہیں۔(4) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۴: عہد توڑنا مثلاً یہ معاہدہ کیا کہ اتنے دنوں تک جنگ نہ ہوگی پھر اسی زمانہ عہد میں(5) جنگ کی یہ ناجائز ہے اور اگر معاہدہ نہ ہو اور بغیر اطلاع کیے جنگ شروع کردی تو حرج نہیں۔ (6)(مجمع الانہر)
مسئلہ ۱۵: مُثلہ یعنی ناک کان یا ہاتھ پاؤں کاٹنا یا مونھ کالا کردینا منع ہے یعنی فتح ہونے کے بعد مُثلہ کی اجازت نہیں اور اثنائے جنگ میں اگر ایسا ہو مثلاً تلوار ماری اور ناک کٹ گئی یا کان کٹ گئے یا آنکھ پھوڑ دی یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیے تو حرج نہیں۔ (7)(فتح)
مسئلہ ۱۶: عورت اور بچہ اور پاگل اور بہت بوڑھے اور اندھے اور لنجھے(8)اور اپاہج (9) اور راہب(10)اور پوجاری (11) جو لوگوں سے ملتے جلتے نہ ہوں یا جس کا دہنا ہاتھ کٹا ہو یا خشک ہوگیا ہو ان سب کو قتل کرنا منع ہے یعنی جبکہ لڑائی میں کسی قسم کی مددنہ دیتے ہوں۔