نہیں بلکہ مریض بھی جائے ہاں پورانا مریض کہ جانے پر قادر نہ ہو اوسے معافی ہے۔(1)(بحر)
مسئلہ ۶: جہاد واجب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسلحہ اور لڑنے پر قدرت ہو اور کھانے پینے کے سامان اور سواری کا مالک ہو نیز اس کا غالب گمان ہو کہ مسلمانوں کی شوکت بڑھے گی۔ اور اگر اس کی امید نہ ہو تو جائز نہیں کہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ (2)(عالمگیر ی، درمختار)
مسئلہ ۷: بیت المال (3)میں مال موجود ہو تو لوگوں پر سامان جہاد گھوڑے اور اسلحہ کے لیے مال مقرر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور بیت المال میں مال نہ ہو تو حرج نہیں اور اگر کوئی شخص بطِیب خاطر (4) کچھ دینا چاہتا ہے تو اصلاً مکروہ نہیں بلکہ بہتر ہے خواہ بیت المال میں ہو یا نہ ہو۔ اور جس کے پاس مال ہو مگر خود نہ جاسکتا ہو تو مال دے کر کسی اور کو بھیج دے مگر غازی سے یہ نہ کہے کہ مال لے اور میری طرف سے جہاد کر کہ یہ تو نوکری اور مزدوری ہوگئی اور یوں کہا تو غازی کو لینا بھی جائز نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: جن لوگوں کو دعوت اسلام نہیں پہنچی ہے اونھیں پہلے دعوت اسلام دی جائے بغیر دعوت اون سے لڑنا جائز نہیں اور اس زمانہ میں ہر جگہ دعوت پہنچ چکی ہے ایسی حالت میں دعوت ضروری نہیں مگر پھر بھی اگر ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو دعوت حق کردینا مستحب ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۹: کفار سے جب مقابلہ کی نوبت آئے تو اون کے گھروں کو آگ لگادینا اور اموال اور درختوں اور کھیتوں کو جلادینا اور تباہ کردینا سب کچھ جائز ہے یعنی جب یہ معلوم ہو کہ ایسا نہ کرینگے تو فتح کرنے میں بہت مشقت اوٹھانی پڑے گی اور اگر فتح کا غالب گمان ہو تو اموال وغیرہ تلْف (7)نہ کریں کہ عنقریب مسلمانوں کو ملیں گے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: بندوق، توپ اور بم کے گولے مارنا سب کچھ جائز ہے۔