سے شرکت دے یا خود شریک ہو کر مسلمانوں کی تعداد بڑھائے یا زخمیوں کا علاج کرے یا کھانے پینے کا انتظام کرے۔ اور اسی کے توابع (1)سے رباط ہے یعنی بلاد اسلامیہ (2) کی حفاظت کی غرض سے سرحد پر گھوڑا باندھنا یعنی وہاں مقیم رہنا اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے کہ اس کی نماز پانسو نماز کی برابر ہے اور اس کا ایک درم خرچ کرنا سات سو درم سے بڑھ کر ہے اور مرجائے گا تو روز مرہ رباط کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں درج ہوگا اور رزق بدستور ملتا رہے گا اور فتنہ قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت کے دن شہید اوٹھایا جائے گا اور فزع اکبر سے مامون(3)رہے گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳: جہاد ابتدائً فرض کفایہ ہے کہ ایک جماعت نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہیں اور سب نے چھوڑ دیا توسب گنہگار ہیں اور اگر کفار کسی شہر پر ہجوم کریں (5)تو وہاں والے مقابلہ کریں اور اون میں اتنی طاقت نہ ہو تو وہاں سے قریب والے مسلمان اعانت کریں (6)اور ان کی طاقت سے بھی باہر ہو تو جو ان سے قریب ہیں وہ بھی شریک ہوجائیں وعلیٰ ہذا القیاس۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: بچوں اور عورتوں پر اور غلام پر فرض نہیں۔ یوہیں بالغ کے ماں باپ اجازت نہ دیں تو نہ جائے۔ یوہیں اندھے اور اپاہج اور لنگڑے اور جس کے ہاتھ کٹے ہوں ان پر فرض نہیں اور مدیون کے پاس مال ہو تو دین ادا کرے اور جائے ورنہ بغیر قرض خواہ بلکہ بغیر کفیل کی اجازت کے نہیں جاسکتا۔ اور اگر دین میعادی(8)ہو اور جانتا ہے کہ میعاد پوری ہونے سے پہلے واپس آجائے گا تو جانا جائز ہے۔ اور شہر میں جو سب سے بڑا عالم ہو وہ بھی نہ جائے۔ یوہیں اگر اوس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہیں اور وہ لوگ موجود نہیں ہیں تو کسی دوسرے شخص سے کہہ دے کہ جن کی جن کی امانت ہے دیدینا تو اب جاسکتا ہے۔ (9)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۵: اگر کفار ہجوم کر آئیں تو اس وقت فرض عین ہے یہاں تک کہ عورت اور غلام پر بھی فرض ہے اور اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ عورت اپنے شوہر سے اور غلام اپنے مولیٰ سے اجازت لے بلکہ اجازت نہ دینے کی صورت میں بھی جائیں اور شوہر و مولیٰ(10) پر منع کرنے کا گناہ ہوا۔ یوہیں ماں باپ سے بھی اجازت لینے کی اور مدیون کو دائن سے(11) اجازت کی حاجت نہیں