Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
426 - 466
    حدیث ۴: ترمذی و ابو داود فضالہ بن عبید سے اور دارمی عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ''جو مرتا ہے اوس کے عمل پر مہر لگادی جاتی ہے یعنی عمل ختم ہوجاتے ہیں، مگر وہ جو سرحد پر گھوڑا باندھے ہوئے ہے اگر مرجائے تو اوس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا ہے اور فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔'' (1)

    حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ایک دن سرحد پرگھوڑا باندھنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔'' (2)

    حدیث ۶ ،۷: صحیح مسلم شریف میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک دن اور رات اﷲ (عزوجل) کی راہ میں سرحد پر گھوڑا باندھنا ایک مہینہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے اور مرجائے تو جو عمل کرتا تھا، جاری رہے گا اور اُس کا رزق برابر جاری رہے گا اور فتنۂ قبر سے محفوظ رہے گا۔'' (3)

    ترمذی و نسائی کی روایت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''ایک دن سرحد پر گھوڑا باندھنا دوسری جگہ کے ہزار دنوں سے بہتر ہے۔'' (4)
مسائلِ فقہیّہ
    مسئلہ ۱: مسلمانوں پر ضرور ہے کہ کافروں کو دین اسلام کی طرف بلائیں اگر دین حق کو قبول کرلیں زہے نصیب حدیث میں فرمایا ''اگر تیری وجہ سے اﷲ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت فرما دے تو یہ اوس سے بہتر ہے جس پر آفتاب نے طلوع کیا ''یعنی جہاں سے جہاں تک آفتاب طلوع کرتا ہے یہ سب تمھیں مل جائے اس سے بہتر یہ ہے کہ تمھاری وجہ سے کسی کو ہدایت ہوجائے اور اگر کافروں نے دین حق کو قبول نہ کیا تو بادشاہ اسلام اون پر جزیہ مقرر کردے کہ وہ ادا کرتے رہیں اور ایسے کافر کو ذمی کہتے ہیں اور جو اس سے بھی انکار کریں تو جہاد کا حکم ہے۔(5) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۲: مجاہد صرف وہی نہیں جو قتال کرے (6)بلکہ وہ بھی ہے جو اس راہ میں اپنا مال صرف کرے (7) یا نیک مشورہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب فضائل الجھاد، باب ماجاء فی فضل من مات مرابطا،الحدیث:۱۶۲۷،ج۳،ص۲۳۲. 

2۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد، باب فضل رباط یوم... إلخ، الحدیث: ۲۸۹۲،ج ۲، ص۲۷۹. 

3۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ،باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل،الحدیث:۱۶۳۔(۱۹۱۳)،ص۱۰۵۹. 

4۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب فضائل الجھاد، باب ما جاء فی فضل المرابط،الحدیث:۱۶۷۳،ج۳،ص ۲۵۲.

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۱۹۳،وغیرہ.
6۔۔۔۔۔۔جہاد کرے،کفار سے جنگ کرے۔ 

7۔۔۔۔۔۔خرچ کرے۔
Flag Counter