| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
( وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾وَاقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ ثَقِفْتُمُوۡہُمْ وَاَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنْ حَیۡثُ اَخْرَجُوۡکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡہُمْ عِنۡدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوۡکُمْ فِیۡہِ ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمْ فَاقْتُلُوۡہُمْ ؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹۱﴾فَاِنِ انۡتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۲﴾وَقٰتِلُوۡہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹۳﴾)
اور اﷲ (عزّوجل) کی راہ میں اون سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو بیشک اﷲ (عزّوجل) زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور ایسوں کو جہاں پاؤ مارو اور جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا تم بھی نکال دو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور اون سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں۔ اگر وہ تم سے لڑیں تو اونھیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے اور اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ (عزّوجل) بخشنے والا مہربان ہے اور اون سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اﷲ (عزّوجل) کے لیے ہوجائے اور اگر وہ باز آجائیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔
احادیث
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) کی راہ میں صبح کو جانا یا شام کو جانا دنیا و مافیہا(2) سے بہتر ہے۔'' (3)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم: ''سب سے بہتر اوس کی زندگی ہے جو اﷲ (عزّوجل) کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ(4) پکڑے ہوئے ہے، جب کوئی خوفناک آواز سنتا ہے یا خوف میں اوسے کوئی بلاتا ہے تو اوڑ کر پہنچ جاتا ہے (یعنی نہایت جلد) قتل و موت کو اوس کی جگہوں میں تلاش کرتا ہے (یعنی مرنے کی جگہ سے ڈرتا نہیں ہے) یا اوس کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لیکر پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی وادی میں رہتا ہے، وہاں نماز پڑھتا ہے اور زکاۃ دیتا ہے اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کرتا ہے۔'' (5)
حدیث ۳: ابو داود و نسائی و دارمی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مشرکین سے جہاد کرو، اپنے مال اور جان اور زبان سے یعنی دِین حق کی اِشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے طیار ہو جاؤ۔'' (6)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرہ:۱۹۰،۱۹۳. 2۔۔۔۔۔۔دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے۔ 3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد، باب الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ... إلخ،الحدیث:۲۷۹۲،ج۲،ص۲۵۱. 4۔۔۔۔۔۔لگام۔ 5۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ، باب فصل الجھاد و الرباط،الحدیث: ۱۲۵۔(۱۸۸۹)،ص۱۰۴۸. 6۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد، باب کراھیۃ ترک الغزو،الحدیث:۲۵۰۴،ج ۳،ص۱۶.