| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
مسئلہ ۴: ڈاکووں میں سے صرف ایک نے قتل کیا یا مال لیا یا ڈرایا یا سب کچھ کیا تو اس صورت میں جو سزا ہوگی وہ صرف اوسی ایک کی نہ ہوگی، بلکہ سب کو پوری سزا دی جائے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: ڈاکووں نے قتل نہ کیا مگر مال لیا اور زخمی کیا تو ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور زخم کا معاوضہ کچھ نہیں اور اگر فقط زخمی کیا مگر نہ مال لیانہ قتل کیا یا قتل کیا اور مال لیا مگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی اور مال واپس دیدیا یا اون میں کوئی غیر مکلف (2)یا گونگا ہو یا کسی راہگیر کا قریبی رشتہ دار ہو تو ان صورتوں میں حد نہیں۔ اور ولیِ مقتول اور قتل نہ کیا ہو تو خود وہ شخص جسے زخمی کیا یا جس کا مال لیا قصاص یا دیت یا تاوان لے سکتا ہے یا معاف کردے۔(3) (درمختار)کتاب السیر
اﷲعزوجل فرماتا ہے :
( اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللہُ ؕ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾ )(4)
اون لوگوں کو جہاد کی اجازت دی گئی جن سے لوگ لڑتے ہیں اس وجہ سے کہ اون پر ظلم کیا گیا اور بیشک اﷲ (عزّوجل) اون کی مدد کرنے پر قادر ہے وہ جن کو ناحق اون کے گھروں سے نکالا گیا محض اس وجہ سے کہ کہتے تھے ہمارا رب اﷲ (عزّوجل) ہے اور اگر اﷲ (عزّوجل) لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ کیا کرتا تو خانقاہیں اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں ڈھادی جاتیں جن میں اﷲ (عزّوجل) کے نام کی کثرت سے یاد ہوتی ہے اور ضرور اﷲ (عزّوجل) اوس کی مدد کریگا جو اوس کے دین کی مدد کرتا ہے، بیشک اﷲ (عزّوجل) قوی غالب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الرابع فی قطاع الطریق،ج۲،ص۱۸۷ . 2۔۔۔۔۔۔یعنی عاقل بالغ نہ ہو۔ 3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب قطع الطریق،ج۶،ص۱۸۳. 4۔۔۔۔۔۔پ ۱۷،الحج :۳۹،۴۰.