Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
423 - 466
 (۱) ان میں اتنی طاقت ہو کہ راہ گیر اُن کا مقابلہ نہ کرسکیں اب چاہے ہتھیار کے ساتھ ڈاکا ڈالا یا لاٹھی لے کر یا پتھر وغیرہ سے۔ (۲) بیرون شہر راہزنی کی ہو(1) یا شہر میں رات کے وقت ہتھیار سے ڈاکا ڈالا۔ (۳) دار الاسلام میں ہو۔ (۴) چوری کے سب شرائط پائے جائیں۔ (۵) توبہ کرنے اور مال واپس کرنے سے پہلے بادشاہ اسلام نے اُن کو گرفتار کرلیا ہو۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲: ڈاکہ پڑا مگر جان و مال تلف (3)نہ ہوا اور ڈاکو گرفتار ہوگیا تو تعزیزاً اسے زد و کوب(4) کرنے کے بعد قید کریں یہاں تک کہ توبہ کرلے اور اُس کی حالت قابل اطمینان ہوجائے اب چھوڑ دیں اور فقط زبانی توبہ کافی نہیں، جب تک حالت درست نہ ہو نہ چھوڑیں اور اگر حالت درست نہ ہو تو قید میں رکھیں یہاں تک کہ مرجائے اور اگر مال لے لیا ہو تو اُس کا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر کاٹیں۔ یوہیں اگر چند شخص ہوں اور مال اتنا ہے کہ ہر ایک کے حصہ میں دس درم یا اس قیمت کی چیز آئے تو سب کے ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اگر ڈاکووں نے مسلمان یا ذمی کو قتل کیا اور مال نہ لیا ہو تو قتل کیے جائیں اور اگر مال بھی لیا اور قتل بھی کیا ہو تو بادشاہ اسلام کو اختیار ہے کہ(۱)ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کر ڈالے یا (۲) سولی دیدے یا (۳) ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کرے پھر اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دے یا (۴) صرف قتل کردے یا (۵) قتل کرکے سولی پر چڑھا دے یا (۶) فقط سولی دیدے۔ یہ چھ طریقے ہیں جو چاہے کرے اور اگر صرف سولی دینا چاہے تو اسے زندہ سولی پر چڑھا کر پیٹ میں نیزہ بھونک دیں(5) پھر جب مرجائے تو مرنے کے بعد تین دن تک اُس کا لاشہ سولی پر رہنے دیں پھر چھوڑدیں کہ ُاس کے ورثہ دفن کر دیں اور یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ڈاکو کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔(6) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۳: ڈاکووں کے پاس اگر وہ مال موجود ہے تو بہر حال واپس دیا جائے اور نہیں ہے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے یا قتل کر دیے گئے تو اب تاوان نہیں۔ یوہیں جو اونھوں نے راہگیروں کو زخمی کیا یا مار ڈالا ہے اسکا بھی کچھ معاوضہ نہیں دلایا جائے گا۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔یعنی شہر سے باہر ڈکیتی کی ہو۔

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الرابع فی قطاع الطریق،ج۲،ص۱۸۶. 

3۔۔۔۔۔۔ضائع۔

4۔۔۔۔۔۔مار پیٹ۔

5۔۔۔۔۔۔یعنی نیزہ ماریں۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الرابع فی قطاع الطریق،ج۲،ص۱۸۶. 

و''الدرالمختار''،کتاب ا لسرقۃ ،باب قطع الطریق،ج ۶،ص ۱۸۱،۱۸۲.

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب السرقۃ،باب قطع الطریق،ج۶،ص۱۸۳.
Flag Counter