Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
422 - 466
    مسئلہ۶: کپڑا چور ایا اور پھاڑ کر دو ٹکڑے کر دیے، اگر ان ٹکڑوں کی قیمت دس۱۰درم ہے تو قطع ہے اور اگر ٹکڑے کرنے کی وجہ سے قیمت گھٹ کر آدھی ہوگئی تو پوری قیمت کا ضمان لازم ہے اور قطع نہیں۔ (1)
راہزنی کا بیان
    اﷲعزوجل فرماتا ہے:
    (اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوْ یُصَلَّبُوۡۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنۡفَوْا مِنَ الۡاَرْضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۳۳﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَقْدِرُوۡا عَلَیۡہِمْ ۚ فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾ ) (2)
    جو لوگ اﷲ (عزوجل) و رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ قتل کر ڈالے جائیں یا انھیں سولی دی جائے یا اُن کے ہاتھ پاؤں مقابل کے کاٹ دیے جائیں یا جلاوطن کر دیے جائیں۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے، مگر وہ کہ تمھارے قابو پانے سے قبل توبہ کرلیں تو جان لو کہ اﷲ (عزّوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔

    ابو داود ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مرد مسلمان اس امر کی شہادت دے کہ اﷲ(عزّوجل) ایک ہے اور محمدصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ (عزوجل) کے رسول ہیں، اس کا خون حلال نہیں مگر تین وجہ سے، محصن ہو کر زنا کرے تو وہ رجم کیا جائے گا اور جو شخص اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) (یعنی مسلمانوں) سے لڑنے کو نکلا تو وہ قتل کیا جائے گا یا اوسے سولی دی جائے گی یا جلاوطن کردیا جائے گا اور جو شخص کسی کو قتل کریگا تو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔''(3)حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں قبیلہ عُکل و عرینہ کے کچھ لوگوں نے ایسا ہی کیا تھا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا کر سنگستان میں ڈلوا دیا، وہیں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ (4)

    مسئلہ ۱: راہزن (5)جس کے لیے شریعت کی جانب سے سزا مقرر ہے، اُس میں چند شرطیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع ....إلخ،ج ۶، ص۱۷۶.

2۔۔۔۔۔۔پ۶،المائدۃ:۳۳،۳۴.

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد ... إلخ، الحدیث:۴۳۵۳،ج ۴،ص۱۶۹.

4۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاری''،کتاب الوضو،باب أبوال الابل ...إلخ،الحدیث۲۳۳،ج۱،ص۱۰۰، والحدیث۵۷۲۷،ج۴،ص۲۸.

5۔۔۔۔۔۔یعنی ڈاکو۔
Flag Counter