مسئلہ ۴: لہو ولعب کی چیزیں جیسے ڈھول، طبلہ (1)،سارنگی(2)وغیرہ ہر قسم کے باجے اگرچہ طبل جنگ (3)چورایا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا۔ یوہیں سونے چاندی کی صلیب (4)یابت اور شطرنج نرد(5)چورانے میں قطع نہیں اور روپے اشرفی پر تصویر ہو جیسے آج کل ہندوستان کے روپے اشرفیاں تو قطع ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: گھاس اور نرکل کی بیش قیمت چٹائیاں کہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت ہوگئیں۔ جیسے آج کل بمبئی کلکتہ سے آیا کرتی ہیں ان میں قطع (7)ہے۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مکان کا بیرونی دروازہ اور مسجد کا دروازہ بلکہ مسجدکے دیگر اسباب جھاڑ فانوس(9)۔ ہانڈیاں۔ قمقمے۔ گھڑی ،جانماز وغیرہ اور نمازیوں کے جوتے چورانے میں قطع نہیں مگر جو اس قسم کی چوری کرتا ہو اوسے پوری سزا دی جائے اور قید کریں یہاں تک کہ سچی توبہ کرلے بلکہ ہر ایسے چور کو جس میں کسی شبہہ کی بنا پر قطع نہ ہو تعزیر کی جائے۔ (10)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ہاتھی دانت یا اس کی بنی ہوئی چیز چورانے میں قطع نہیں اگرچہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت قرار پاتی ہو اور اونٹ کی ہڈی کی بیش قیمت چیز بنی ہو تو قطع ہے۔(11) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: شیر، چیتا وغیرہ درندہ کو ذبح کرکے ان کی کھال کو بچھونا یا جانماز بنا لیاہے تو قطع ہے ورنہ نہیں اور باز، شکرا، کتا، چیتا وغیرہ جانوروں کو چورایا تو قطع نہیں۔(12) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مصحف شریف چورایا تو قطع نہیں اگرچہ سونے چاندی کا اوس پر کام ہو۔