Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
418 - 466
    مسئلہ ۴: لہو ولعب کی چیزیں جیسے ڈھول، طبلہ (1)،سارنگی(2)وغیرہ ہر قسم کے باجے اگرچہ طبل جنگ (3)چورایا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا۔ یوہیں سونے چاندی کی صلیب (4)یابت اور شطرنج نرد(5)چورانے میں قطع نہیں اور روپے اشرفی پر تصویر ہو جیسے آج کل ہندوستان کے روپے اشرفیاں تو قطع ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵: گھاس اور نرکل کی بیش قیمت چٹائیاں کہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت ہوگئیں۔ جیسے آج کل بمبئی کلکتہ سے آیا کرتی ہیں ان میں قطع (7)ہے۔ (8)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۶: مکان کا بیرونی دروازہ اور مسجد کا دروازہ بلکہ مسجدکے دیگر اسباب جھاڑ فانوس(9)۔ ہانڈیاں۔ قمقمے۔ گھڑی ،جانماز وغیرہ اور نمازیوں کے جوتے چورانے میں قطع نہیں مگر جو اس قسم کی چوری کرتا ہو اوسے پوری سزا دی جائے اور قید کریں یہاں تک کہ سچی توبہ کرلے بلکہ ہر ایسے چور کو جس میں کسی شبہہ کی بنا پر قطع نہ ہو تعزیر کی جائے۔ (10)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۷: ہاتھی دانت یا اس کی بنی ہوئی چیز چورانے میں قطع نہیں اگرچہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت قرار پاتی ہو اور اونٹ کی ہڈی کی بیش قیمت چیز بنی ہو تو قطع ہے۔(11) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۸: شیر، چیتا وغیرہ درندہ کو ذبح کرکے ان کی کھال کو بچھونا یا جانماز بنا لیاہے تو قطع ہے ورنہ نہیں اور باز، شکرا، کتا، چیتا وغیرہ جانوروں کو چورایا تو قطع نہیں۔(12) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۹: مصحف شریف چورایا تو قطع نہیں اگرچہ سونے چاندی کا اوس پر کام ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ ایک قسم کاخاص ڈھول جس میں بائیں کامنہ دائیں سے نسبتاچوڑا ہوتاہے،یہ انگلیوں کی ضرب اورہتھیلی کی تھاپ سے بجایاجاتاہے۔

2۔۔۔۔۔۔ایک ساز جس میں تار لگے ہوتے ہیں اور اسے گز (چھوٹی کمان)سے بجایا جاتا ہے۔

3۔۔۔۔۔۔اعلان جنگ کے لیے بجائے جانے والا نقارہ،بڑا ڈھول۔

4۔۔۔۔۔۔عیسائیوں کا ایک مقدس نشان۔

5 ۔۔۔۔۔۔شطرنج کامُہرہ۔
6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب: فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۸.

7۔۔۔۔۔۔ ہاتھ کاٹنا۔

8۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب:فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۶.
9۔۔۔۔۔۔ ایک قسم کا فانوس جو گھروں میں روشنی اورخوبصورتی (Decoration)کیلئے لگاتے ہیں۔
10۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب:فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۸.

11۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع فیہ ومالا ...إلخ،الفصل الأول،ج۲،ص۱۷۶.

12۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter