مسئلہ۱: ساکھو(1)، آبنوس(2)، اگر کی لکڑی(3)، صندل، نیزہ، مشک، زعفران، عنبر اور ہر قسم کے تیل، زمرد، یاقوت، زبرجد، فیروزہ، موتی اور ہر قسم کے جواہر۔ لکڑی کی ہر قسم کی قیمتی چیزیں جیسے کرسی، میز، تخت، دروازہ جو ابھی نصب نہ کیا گیا ہو (4)، لکڑی کے برتن۔ یوہیں تانبے، پیتل، لوہے، چمڑے وغیرہ کے برتن، چھری، چاقو، قینچی اور ہر قسم کے غلے گیہوں، جَو، چاول اور ستو، آٹا، شکر، گھی، سرکہ، شہد، کھجور، چھوہارے، منقٰے، روئی، اُون، کتان(5)، پہننے کے کپڑے، بچھونا اور ہر قسم کے عمدہ اور نفیس مال میں ہاتھ کاٹا جائیگا۔
مسئلہ ۲: حقیر چیزیں جو عادۃً محفوظ نہ رکھی جاتی ہوں اور باعتبار اصل کے مباح ہوں اور ہنوز (6)ان میں کوئی ایسی صنعت(7) بھی نہ ہوئی ہو جس کی وجہ سے قیمتی ہو جائیں ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا جیسے معمولی لکڑی، گھاس، نرکل(8)، مچھلی، پرند، گیرو(9)، چونا، کوئلے، نمک، مٹی کے برتن، پکی اینٹیں۔ یوہیں شیشہ اگرچہ قیمتی ہو کہ جلد ٹوٹ جاتا ہے اور ٹوٹنے پر قیمتی نہیں رہتا۔ یوہیں وہ چیزیں جو جلد خراب ہو جاتی ہیں جیسے دودھ، گوشت، تربوز، خربزہ، ککڑی، کھیرا، ساگ، ترکاریاں اور تیار کھانے جیسے روٹی بلکہ قحط کے زمانہ میں غلہ گیہوں، چاول، جَو وغیرہ بھی اور تر میوے جیسے انگور، سیب، ناشپاتی، بہی(10)، انار اور خشک میوے میں ہاتھ کاٹا جائیگا جیسے اخروٹ، بادام وغیرہ جبکہ محفوظ ہوں۔ اگر درخت پر سے پھل توڑے یا کھیت کاٹ لے گیا تو قطع نہیں، اگرچہ درخت مکان کے اندر ہو یا کھیت کی حفاظت ہوتی ہو اور پھل توڑ کریا کھیت کاٹ کر حفاظت میں رکھا اب چورائے گا تو قطع ہے۔
مسئلہ ۳: شراب چورائی تو قطع نہیں ہاں اگر شراب قیمتی برتن میں تھی کہ اوس برتن کی قیمت دس۱۰درم ہے اورصرف شراب نہیں بلکہ برتن چورانا بھی مقصود تھا، مثلاً بظاہر دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ برتن بیش قیمت (11)ہے توقطع ہے۔ (12)(ردالمحتار)