Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
415 - 466
    (۱۴) بقدردس درم کے ایک بار مکان سے باہر لے گیاہو اور اگر چند بار لے گیاکہ سب کا مجموعہ دس درم یازیادہ ہے، مگر ہر بار دس ۱۰ سے کم کم لے گیاتو قطع نہیں کہ یہ ایک سرقہ (1)نہیں بلکہ متعدد(2) ہیں، اب اگر دس درم ایک بارلے گیااور وہ سب ایک ہی شخص کے ہوں یاکئی شخصوں کے مثلاً ایک مکان میں چند شخص رہتے ہیں اور کچھ کچھ ہر ایک کا چورایاجن کا مجموعہ دس درم یازیادہ ہے اگرچہ ہر ایک کا اس سے کم ہے دونوں صورتوں میں قطع ہے(3)۔ 

    (۱۵) شبہہ یاتاویل کی گنجائش نہ ہو، لہٰذا اگر باپ کا مال چورایایاقرآن مجید کی چوری کی تو قطع نہیں کہ پہلے میں شبہہ ہے اور دوسرے میں یہ تاویل ہے کہ پڑھنے کے لیے لیاہے۔ (4) (درمختار، بحر، عالمگیری وغیرہا) 

    مسئلہ ۱: چند شخصوں نے ملکر چوری کی اگر ہر ایک کو بقدر دس درم کے حصہ ملا تو سب کے ہاتھ کاٹے جائیں خواہ سب نے مال لیاہو یابعضوں نے لیااور بعض نگہبانی کرتے رہے ۔ (5)(عالمگیری، بحر) 

    مسئلہ ۲: چوری کے ثبوت کے دوطریقے ہیں ایک یہ کہ چور خود اقرار کرے اور اس میں چند بار کی حاجت نہیں صرف ایک بار کافی ہے دوسرا یہ کہ دومرد گواہی دیں اور اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو قطع نہیں مگر مال کا تاوان دلایاجائے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیاہے تو یہ گواہی قابل اعتبار نہیں گواہ کا آزاد ہونا شرط نہیں۔(6) (درمختار) 

    مسئلہ ۳: قاضی گواہوں سے چند باتوں کا سوال کرے کس طرح چوری کی، اور کہاں کی،اور کتنے کی کی، اور کس کی چیز چورائی،جب گواہ ان امور کا جواب دیں اور ہاتھ کا ٹنے کے تمام شرائط پائے جاہیں تو قطع کا حکم ہے۔ (7) (درمختار)

    مسئلہ ۴: پہلے اقرار کیاپھر اقرارسے پھر گیایاچند شخصوں نے چوری کا اقرار کیاتھا ان میں سے ایک اپنے اقرار سے پھر گیایاگواہوں نے اسکی شہادت دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیاہے اور چورانکار کرتا ہے کہتا ہے میں نے اقرار نہیں کیاہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ایک بار چوری کرنا۔

2۔۔۔۔۔۔ زیادہ۔

3۔۔۔۔۔۔یعنی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۱۳۲۔۱۳۸.

و''البحرالرائق''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۸۴۔۸۶.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الأول فی بیان السرقۃ ...إلخ،ج۲،ص۱۷۰،وغیرہا.

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الأول فی بیان السرقۃ...إلخ،ج۲،ص۱۷۰.

و''البحرالرائق''،کتاب السرقۃ،ج۵،ص۸۹.

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۱۳۸.

7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۱۳۸.
Flag Counter