مگر ہاتھ کاٹنے کے وقت اس سے کم کی ہوگئی یاجہاں چورایاہے وہاں تو اب بھی دس درم قیمت کی ہے مگر جہاں ہاتھ کاٹا جائے گا وہاں کم کی ہے تو ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ہاں اگر کسی عیب کی وجہ سے قیمت کم ہو گئی یااوس میں سے کچھ ضائع ہوگئی کہ دس ۱۰ درم کی نہ رہی تو دونوں صورتوں میں ہاتھ کاٹے جائیں گے۔
(۷) اور چورانے میں خود اس شے کا چورانا مقصود ہو لہٰذا اگر اچکن(1) وغیرہ کوئی کپڑا چورایااور کپڑے کی قیمت دس درم سے کم ہے مگر اوس میں دینار نکلا تو جس کوبالقصدچورایاوہ دس درم کا نہیں لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں اگر وہ کپڑا ان درموں کے لیے ظرف ہو تو قطع ہے کہ مقصود کپڑا چورانا نہیں بلکہ اوس شے کا چورانا ہے یاکپڑا چورایا اور جانتا تھا کہ اس میں روپے بھی ہیں تو دونوں کو قصداً چورانا قرار دیاجائیگا اگرچہ کہتا ہو کہ میرا مقصود صرف کپڑا چورانا تھا۔ یوہیں اگر روپے کی تھیلی چورائی تو اگرچہ کہے مجھے معلوم نہ تھا کہ اس میں روپے ہیں اور نہ میں نے روپے کے قصد سے چورائی بلکہ میرا مقصود صرف تھیلی کا چورانا تھا تو ہاتھ کاٹا جائیگا اور اوس کے قول کا اعتبار نہ کیاجائیگا۔
(۸)اوس مال کو اس طرح لے گیاہو کہ اُس کا نکالنا ظاہر ہو لہٰذا اگر مکان کے اندر جہاں سے لیاوہاں اشرفی نگل لی تو قطع نہیں بلکہ تاوان لازم ہے۔
(۹)خفیۃً (2)لیاہو یعنی اگر دن میں چوری کی تو مکان میں جانا اور وہاں سے مال لینا دونوں چھپ کر ہوں اور اگر گیاچھپ کر مگر مال کا لینا علانیہ(3)ہو جیسا ڈاکو کرتے ہیں تو اس میں ہاتھ کاٹنا نہیں۔ مغرب وعشا کے درمیان کاوقت دن کے حکم میں ہے۔ اور اگر رات میں چوری کی اور جانا خفیۃً ہو اگرچہ مال لینا علانیۃً یالڑجھگڑ کر ہو ہاتھ کاٹا جائے۔
(۱۰) جس کے یہاں سے چوری کی اوس کا قبضہ صحیح ہوخواہ وہ مال کامالک ہو یاامین(4) اور اگر چور کے یہاں سے چورا لیا(5) تو قطع نہیں یعنی جبکہ پہلے چور کا ہاتھ کاٹا جاچکا ہو، ورنہ اس کا کاٹا جائے۔
(۱۱) ایسی چیز نہ چورائی ہو جو جلد خراب ہو جاتی ہے جیسی گوشت اور ترکاریاں۔
(۱۲)وہ چوری دارالحرب میں نہ ہو۔
(۱۳) مال محفوظ ہو اور حفاظت کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ مال ایسی جگہ ہو جو حفاظت کے لیے بنائی گئی ہو جیسے مکان، دوکان،خیمہ، خزانہ، صندوق۔ دوسری یہ کہ وہ جگہ ایسی نہیں مگر وہاں کوئی نگہبان مقرر ہو جیسے مسجد، راستہ، میدان۔