| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
میں لگے ہوں اور کوئی چورائے۔ (1)
حدیث ۷: امام مالک نے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''درختوں پر جو پھل لگے ہوں، اون میں قطع نہیں اور نہ اون بکریوں کے چورانے میں جو پہاڑ پر ہوں، ہاں جب مکان میں آجائیں اور پھل خرمن(2) میں جمع کرلیے جائیں اور سپر(3) کی قیمت کو پہنچیں تو قطع ہے۔'' (4)
حدیث ۸: عبداﷲ بن عمر،و دیگر صحابہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے مروی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے سپر کی قیمت میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیاہے۔ سپر کی قیمت میں روایات بہت مختلف ہیں، بعض میں تین درہم، بعض میں ربع دینار، بعض میں دس درہم۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے احتیاطاً دس درہم والی روایت پر عمل فرمایا۔ (5)احکام فقہیّہ
چوری یہ ہے کہ دوسرے کا مال چھپا کرنا حق لے لیاجائے اور اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے مگر ہاتھ کاٹنے کے لیے چند شرطیں ہیں۔
(۱)چورانے والا مکلف ہو یعنی بچہ یامجنون نہ ہو اب خواہ وہ مرد ہو یاعورت آزاد ہو یاغلام مسلمان ہو یاکافر اور اگر چوری کرتے وقت مجنون نہ تھا پھر مجنون ہو گیاتو ہاتھ نہ کاٹا جائے۔
(۲) گونگا نہ ہو(۳)انکھیارا(6)ہواور اگر گونگا ہے تو ہاتھ کاٹنا نہیں کہ ہو سکتا ہے اپنا مال سمجھ کر لیاہو۔ یوہیں اندھے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے کہ شاید اس نے اپنا مال جان کر لیا۔
(۴) دس درم چورائے یااس قیمت کا سونا یااور کوئی چیز چورائے اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور
(۵) دس درم کی قیمت چورانے کے وقت بھی ہو اور ہاتھ کاٹنے کے وقت بھی۔
(۶) اور اتنی قیمت اوس جگہ ہو جہاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لہٰذا اگر چورانے کے وقت وہ چیز دس درم قیمت کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء لاقطع في ثمرولا کثر،الحدیث:۱۴۵۴،ج۳،ص۱۳۲.
2۔۔۔۔۔۔وہ جگہ جہاں پھل یاغلہ وغیرہ جمع کرکے صاف کیے جاتے ہیں۔ 3۔۔۔۔۔۔ڈھال۔
4۔۔۔۔۔۔''الموطأ''،لإمام مالک، کتاب الحدود، باب ما یجب فیہ القطع،الحدیث:۱۵۹۹،ج۲،ص۳۴۱. 5۔۔۔۔۔۔''فتح القدیر''،کتاب السرقۃ،ج۵،ص۱۲۲۔۱۲۴.
6۔۔۔۔۔۔درست آنکھوں والا،بینا۔