حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ فضالہ بن عبید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایاگیااوس کا ہاتھ کاٹا گیاپھر حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے حکم فرمایا: ''وہ کٹاہوا ہاتھ اوس کی گردن میں لٹکا دیاجائے۔'' (1)
حدیث ۳: ابن ماجہ صفوان بن امیہ سے اور دارمی ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے راوی، کہ صفوان بن امیہ مدینہ میں آئے اور اپنی چادر کا تکیہ لگا کر مسجد میں سوگئے چور آیااور اون کی چادر لے بھاگا، اونھوں نے اوسے پکڑا اور رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر لائے، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا۔ صفوان نے عرض کی، میرا یہ مطلب نہ تھا، یہ چادر اوس پر صدقہ ہے۔ ارشاد فرمایا: ''میرے پاس حاضر کرنے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔'' (2)
حدیث ۴: امام مالک نے عبداﷲبن عمرو(3)رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ ایک شخص اپنے غلام کو حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر لایااور کہا اس کا ہاتھ کاٹیے کہ اس نے میری بی بی کا آئینہ چورایاہے۔ امیرالمومنین نے فرمایا: اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا کہ یہ تمھارا خادم ہے، جس نے تمھارا مال لیاہے۔ (4)
حدیث ۵: ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''خائن اور لوٹنے والے اور اُچک لے(5) جانے والے کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔'' (6)
حدیث ۶: امام مالک و ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی رافع بن خدیج رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضورِاقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''پھل اور گابھے(7)کے چورانے میں ہاتھ کاٹنا نہیں۔'' یعنی جبکہ پیڑ(8)