تو مستحق تعزیر نہیں یعنی جبکہ اس کا مقصود گالی دینایاتوہین کرنا نہ ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲:رافضی، بد مذہب، منافق، زندیق(2)، یہودی، نصرانی، نصرانی بچہ، کافر بچہ کہنے پر بھی تعزیر ہے۔ (3) (درمختار، بحر) یعنی جبکہ سنی کو رافضی یابدمذہب یابدعتی کہا اور رافضی کوکہا تو کچھ نہیں کہ اوس کوتو رافضی کہیں گے ہی۔ یوہیں سُنّی کو وہابی یاخارجی کہنا بھی موجب تعزیر ہے۔
مسئلہ ۲۳: حرامی کا لفظ بھی بہت سخت گالی ہے اور حرام زادہ کے معنی میں ہے اس کا بھی حکم تعزیر ہونا چاہیے، کسی کو بے ایمان کہا تو تعزیرہوگی اگرچہ عرف عام(4) میں یہ لفظ کافر کے معنے میں نہیں بلکہ خائن کے معنی میں ہے اور لفظ خائن میں تعزیر ہے۔
مسئلہ ۲۴: سوئر، کتا، گدھا، بکرا، بیل، بندر، اُلّو کہنے پر بھی تعزیر ہے جبکہ ایسے الفاظ علما وسادات یااچھے لوگوں کی شان میں استعمال کیے۔(5) (ہدایہ وغیرہ) یہ چند الفاظ جن کے کہنے پر تعزیر ہوتی ہے بیان کر دیے باقی ہندوستان میں خصوصاً عوام میں آج کل بکثرت نہایت کریہ وفحش(6) الفاظ گالی میں بولے جاتے یابعض بےباک(7) مذاق اور دل لگی میں کہا کرتے ہیں ایسے الفاظ بالقصد (8)نہیں لکھے اور اون کا حکم ظاہر ہے کہ عزت دار کو کہے جس کی اون الفاظ سے ہتک حرمت(9)ہوتی ہے تو تعزیر ہے یااون الفاظ سے ہر شخص کی بے آبروئی(10) ہے جب بھی تعزیر ہے۔
مسئلہ ۲۵: جس کو گالی دی یااور کوئی ایسا لفظ کہا جس میں تعزیر ہے اور اوس نے معاف کردیاتو تعزیر ساقط ہو جائے گی۔ اور اوس کی شان میں چند الفاظ کہے تو ہر ایک پر تعزیر ہے یہ نہ ہوگا کہ ایک کی تعزیر سب کے قائم مقام ہو۔ یوہیں اگر چند شخصوں کی نسبت کہا مثلاً تم سب فاسق ہو توہر ایک شخص کی طرف سے الگ الگ تعزیر ہو گی۔ (11)(ردالمحتار)