Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
408 - 466
اور اگر واقع میں یہ عیوب(1) اس میں پائے جاتے ہیں اور کسی نے کہا تو تعز یر نہیں کہ اس نے خود اپنے کو عیبی بنا رکھا ہے، اس کے کہنے سے اسے کیاعیب لگا۔(2) (بحر وغیرہ) 

    مسئلہ ۱۹: کسی مسلمان کو فاسق کہا اور قاضی کے یہاں جب دعویٰ ہوا اوس نے جواب دیاکہ میں نے اسے فاسق کہا ہے کیونکہ یہ فاسق ہے تو اوس کا فاسق ہونا گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا اور قاضی اوس سے دریافت کرے کہ اس میں فِسق کی کیابات ہے اگر کسی خاص بات کا ثبوت دے اور گواہوں نے بھی گواہی میں اوس خاص فِسق کو بیان کیاتو تعزیر ہے اور اگر خاص فِسق نہ بیان کریں صرف یہ کہیں کہ فاسق ہے تو قول معتبر نہیں۔ اور اگر گواہوں نے بیان کیاکہ یہ فرائض کو ترک کرتا ہے تو قاضی اوس شخص سے فرائض اسلام دریافت کریگا اگر نہ بتاسکا تو فاسق ہے یعنی وہ فرائض جن کا سیکھنا اس پر فرض تھا اور سیکھا نہیں تو فاسق ہونے کے لیے یہی بس ہے۔ اور اگر ایسے مسلمان کو فاسق کہا جو علانیہ فِسق کرتا ہے مثلاً ناجائز نوکری کرتا ہے یاعلانیہ سود لیتا ہے وغیرہ وغیرہ تو کہنے والے پر کچھ الزام نہیں۔ (3)(درمختار وغیرہ)

    مسئلہ ۲۰: کسی مسلمان کو کافرکہا تو تعزیر ہے رہا یہ کہ وہ قائل خود کافر ہو گا یانہیں اس میں دو صورتیں ہیں اگر اوسے مسلمان جانتا ہے تو کافر نہ ہوا۔ اور اگر اوسے کافر اعتقاد کرتا ہے تو خود کافر ہے کہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دینِ اسلام کو کفر جاننا کفر ہے۔ ہاں اگر اوس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بنا پر تکفیر ہو سکے(4) اور اوس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو کافر نہ ہوگا۔(5) (درمختار، ردالمحتار) یہ اوس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر اوس نے کافر کہا ظنی ہو یعنی تاویل ہو سکے تو وہ مسلمان ہی کہا جائیگا مگر جس نے اوسے کافر کہا وہ بھی کافر نہ ہوا۔ اور اگر اوس میں قطعی کفرپایاجاتا ہے جو کسی طرح تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا (6)تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اس کو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو کافر کہنا ہے بلکہ ایسے کو مسلمان جاننا یااس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ 

    مسئلہ ۲۱: کسی شخص پر حاکم کے یہاں دعویٰ کیاکہ اس نے چوری کی یااس نے کفر کیااور ثبوت نہ دے سکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔برائیاں۔

2۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۹،وغیرہ.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۰۸،وغیرہ.

4۔۔۔۔۔۔کافر ہونے کا حکم لگ سکتاہو۔

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب:فی الجرح المجرد،ج۶،ص۱۱۱.
6۔۔۔۔۔۔ یعنی کسی بھی طرح کفرکے سوااوربات مرادنہ لی جاسکتی ہو۔
Flag Counter