اس وقت جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے مُقاطَعہ (1)کیاجائے اور ان سے میل جول نشست وبرخاست(2) وغیرہ ترک کریں۔
مسئلہ ۱۳: اگر جرم ایسا ہے جس میں حد واجب ہوتی مگر کسی وجہ سے ساقط ہوگئی تو سخت درجہ کی تعزیر ہوگی، مثلاً دوسرے کی لونڈی کو زانیہ کہا تو یہ صورت حدِ قذف کی تھی مگر چونکہ محصنہ نہیں ہے لہٰذا سخت قسم کی تعزیر ہوگی اور اگر اوس میں حد واجب نہیں مثلاً کسی کو خبیث کہا تو اس میں تعزیر کی مقدار رائے قاضی پر ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دو شخصوں نے باہم مار پیٹ کی تو دونوں مستحق تعزیر ہیں اور پہلے اوسے سزا دیں گے جس نے ابتدا کی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: چوپایہ کے ساتھ برا کام کیایاکسی مسلمان کو تھپڑمارا یابازار میں اوس کے سر سے پگڑی اوتار لی تو مستحق تعزیرہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: تعزیر کے دُرّے سختی سے مارے جائیں اور زنا کی حد میں اس سے نرم اور شراب کی حد میں اور نرم اور حد قذف میں سب سے نرم۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: جو شخص مسلمان کو کسی فعل یاقول سے ایذا پہنچائے اگرچہ آنکھ یاہاتھ کے اشارے سے وہ مستحق تعزیر ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: کسی مسلمان کو فاسق، فاجر، خبیث، لوطی(8)، سود خوار، شراب خوار، خائن(9)، دیوث، مخنث(10)، بھڑوا چور، حرام زادہ، ولدالحرام(11)، پلید، سفلہ(12)، کمین(13)، جواری کہنے پر تعزیر کی جائے یعنی جبکہ وہ شخص ایسا نہ ہو جیسا اس نے کہا