مسئلہ ۹: کوئی شخص کسی کی عورت یا چھوٹی لڑکی کوبھگالے گیا اور اوس کا کسی سے نکاح کردیا تو اوس پر تعزیر ہے۔ امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں كہ قید کیاجائے، یہاں تک کہ مرجائے یا او سے واپس کرے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک شخص نے کسی مرد کو اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں دیکھا اگر چہ فعل قبیح میں مبتلا نہ دیکھا تو چاہیے کہ شورکرے یا مارپیٹ کرنے سے بھاگ جائے تویہی کرے اور اگر ان باتوں کا اوس پر اثرنہ پڑے تو اگر قتل کرسکے تو قتل کرڈالے اور عورت اوس کے ساتھ راضی ہے تو عورت کو بھی مارڈالے یعنی اوس کے مارڈالنے پر قصاص نہیں۔ یوہیں اگر عورت کو کسی نے زبردستی پکڑا اور کسی طرح اوسے نہیں چھوڑتا اور آبرو جانے کا(2) گمان ہے تو عورت سے اگر ہوسکے، اسے مارڈالے۔(3) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۱: چور کو چوری کرتے دیکھا اور چلانے یاشور کرنے یا مارپیٹ کرنے پر بھی باز نہیں آتا توقتل کرنے کااختیارہے یہی حکم ڈاکو اور عَشَّار(4) اور ہر ظالم اور کبیرہ گناہ کرنے والے کا ہے۔ اور جس گھر میں ناچ رنگ شراب خواری کی مجلسہواوس کا محاصرہ کرکے(5) گھر میں گھس پڑیں(6) اور خم(7)توڑڈالیں اوراونھیں نکال باہر کردیں اور مکان ڈھادیں۔(8) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۲: یہ احکام جو بیان کیے گئے ان پر اوس وقت عمل کر سکتا ہے جب ان گناہوں میں مبتلا دیکھے اور بعد گناہ کر لینے کے اب اسے سزا دینے کا اختیار نہیں بلکہ بادشاہِ اسلام چاہے تو قتل کر سکتا ہے۔ (9)(درمختار)
قتل وغیرہ کے متعلق جو کچھ بیان ہوا یہ اسلامی احکام ہیں جو اسلامی حکومت میں ہو سکتے ہیں مگر اب کہ ہندوستان میں اسلامی سلطنت باقی نہیں اگر کسی کو قتل کرے تو خود قتل کیاجائے، لہٰذا حالت موجودہ میں ان پر کیسے عمل ہو سکے