مسئلہ ۴: تعزیر کی بعض صورتیں یہ ہیں۔ قید کرنا، کوڑے مارنا، گوشمالی کرنا(1)، ڈانٹنا، ترش روئی سے (2) اوس کی طرف غصہ کی نظر کرنا۔(3) (زیلعی)
مسئلہ ۵: اگر تعزیر ضرب(4) سے ہو تو کم ازکم تین کوڑے اور زیادہ سے زیادہ اونتالیس کوڑے لگائے جائیں، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں یعنی قاضی کی رائے میں اگردس۱۰ کوڑوں کی ضرورت معلوم ہو تو دس ،بیس کی ہو تو بیس، تیس کی ہو توتیس لگائے یعنی جتنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو اوس سے کمی نہ کرے۔ ہاں اگر چالیس یا زیادہ کی ضرورت معلوم ہوتی ہے تو اونتالیس سے زیادہ نہ مارے باقی کے بدلے دوسری سزا کرے مثلاً قید کردے۔ کم از کم تین کوڑے یہ بعض متون کا قول ہے اور امام ابن ہمام وغیرہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک کوڑا مارنے سے کام چلے توتین کی کچھ حاجت نہیں اور یہی قرین قیاس(5) بھی ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: اگر چند کوڑے مارے جائیں تو بدن پر ایک ہی جگہ ماریں اور بہت سے مارنے ہوں تو متفرق جگہ مارے جائیں کہ عضو بے کار نہ ہوجائے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۷: تعزیر بالمال یعنی جرمانہ لینا جائز نہیں ہاں اگر دیکھے کہ بغیر لیے باز نہ آئیگا تو وصول کرلے پھر جب اوس کام سے توبہ کرلے واپس دیدے(8) (بحر وغیرہ) پنچایت (9)میں بھی بعض قومیں بعض جگہ جرمانہ لیتی ہیں اونھیں اس سے باز آنا چاہیے۔
مسئلہ ۸: جس مسلمان نے شراب بیچی اوس کو سزادی جائے۔ یوہیں گویّااور ناچنے والے اور مخنث اور نوحہ کرنے والی بھی مستحق تعزیر ہے۔ مقیم بلاعذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے تومستحق تعزیر ہے اور اگر یہ اندیشہ ہوکہ اب بھی نہیں رکھے گا تو قید کیاجائے۔(10) (عالمگیری)