Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
404 - 466
شرع مطہر کا دامن پکڑیں اور روزمرہ کی تباہ کن مقدمہ بازیوں سے دست برداری کریں تو دینی فائدہ کے علاوہ ان کی دُنیوی حالت بھی سنبھل جائے اور بڑے بڑے فوائد حاصل کریں۔ مقدمہ بازی کے مصارف سے زیر بار بھی نہ ہوں(1) اور اس سلسلہ کے دراز ہونیسے بغض و عداوت جودلوں میں گھر کر جاتی ہے(2) اوس سے بھی محفوظ رہیں۔ 

    مسئلہ ۲: گناہوں کی مختلف حالتیں ہیں کوئی بڑا کوئی چھوٹا اور آدمی بھی مختلف قسم کے ہیں کوئی حیادار باعزت اورغیرت والا ہوتا ہے بعض بیباک دلیر(3) ہوتے ہیں لہٰذا قاضی جس موقع پر جو تعزیر مناسب سمجھے وہ عمل میں لائے کہ تھوڑے سے جب کام نکلے تو زیادہ کی کیا حاجت (4)(ردالمحتار، بحر) 

    مسئلہ ۳: سادات و علما اگر وجاہت(5)و عزت والے ہوں کہ کبیرہ تو کبیرہ صغیرہ بھی نادراً (6) یا بطور لغزش(7) اون سے صادر ہو تو ان کی تعزیر ادنیٰ درجہ(8) کی ہوگی کہ قاضی ان سے اگر اتنا ہی کہدے کہ آپ نے ایسا کیا ایسوں کے لیے اتناکہہ دینا ہی باز آنے کے لیے کافی ہے۔ اور اگریہ لوگ اس صفت پرنہ ہوں بلکہ ان کے اطوار خراب ہوگئے ہوں مثلاً کسی کواس قدر مارا کہ خوناخون ہوگیا یا چند بارجُرم کا ارتکاب کیا یاشراب خواری کے جلسہ(9) میں بیٹھتا ہے یا لواطت(10) میں مبتلا ہے تواب جرم کے لائق سزا دی جائے گی ایسی صورتوں میں دُرے لگائے جائیں یا قید کیا جائے۔ اُون علما و سادات کے بعد دوسرا مرتبہ زمیندارو تجار اور مالداروں کا ہے کہ ان پر دعویٰ کیا جائے گا اور دربار قاضی میں طلب کیے جائیں گے پھر قاضی انھیں متنبہ(11) کریگا کہ کیا تم نے ایسا کیا ہے ایسانہ کرو۔ تیسرا درجہ متوسط لوگوں کا ہے یعنی بازاری لوگ کہ ایسے لوگوں کے لیے قید ہے۔ چوتھا درجہ ذلیلوں اور کمینوں(12) کا ہے کہ اونھیں مارا بھی جائے مگر جرم جب اس قابل ہوجب ہی یہ سزاہے۔ (13)(ردالمحتار)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔۔۔مقدمہ بازی کے اخراجات بھی نہ اٹھانے پڑیں۔

2۔۔۔۔۔۔یعنی دلوں میں بس جاتی ہے۔

3۔۔۔۔۔۔بے پرواہ یعنی ایسے بے حیا جو سر عام گناہ کرنے سے نہیں ڈرتے۔
4۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۶.

و''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۸.
5۔۔۔۔۔۔صاحب مرتبہ،بلند مقام والے۔

6 ۔۔۔۔۔۔کبھی کبھار۔

7۔۔۔۔۔۔بھول چُوک۔

8۔۔۔۔۔۔سب سے ہلکی،بہت کم۔

9۔۔۔۔۔۔شراب پینے والوں کی مجلس۔

10۔۔۔۔۔۔لڑکوں کے ساتھ بد فعلی کرنا۔

11۔۔۔۔۔۔خبردار،تنبیہ۔

12۔۔۔۔۔۔کمینہ کی جمع ہے انتہائی گھٹیاقسم کے لوگ۔
13۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۷.
Flag Counter