شرع مطہر کا دامن پکڑیں اور روزمرہ کی تباہ کن مقدمہ بازیوں سے دست برداری کریں تو دینی فائدہ کے علاوہ ان کی دُنیوی حالت بھی سنبھل جائے اور بڑے بڑے فوائد حاصل کریں۔ مقدمہ بازی کے مصارف سے زیر بار بھی نہ ہوں(1) اور اس سلسلہ کے دراز ہونیسے بغض و عداوت جودلوں میں گھر کر جاتی ہے(2) اوس سے بھی محفوظ رہیں۔
مسئلہ ۲: گناہوں کی مختلف حالتیں ہیں کوئی بڑا کوئی چھوٹا اور آدمی بھی مختلف قسم کے ہیں کوئی حیادار باعزت اورغیرت والا ہوتا ہے بعض بیباک دلیر(3) ہوتے ہیں لہٰذا قاضی جس موقع پر جو تعزیر مناسب سمجھے وہ عمل میں لائے کہ تھوڑے سے جب کام نکلے تو زیادہ کی کیا حاجت (4)(ردالمحتار، بحر)
مسئلہ ۳: سادات و علما اگر وجاہت(5)و عزت والے ہوں کہ کبیرہ تو کبیرہ صغیرہ بھی نادراً (6) یا بطور لغزش(7) اون سے صادر ہو تو ان کی تعزیر ادنیٰ درجہ(8) کی ہوگی کہ قاضی ان سے اگر اتنا ہی کہدے کہ آپ نے ایسا کیا ایسوں کے لیے اتناکہہ دینا ہی باز آنے کے لیے کافی ہے۔ اور اگریہ لوگ اس صفت پرنہ ہوں بلکہ ان کے اطوار خراب ہوگئے ہوں مثلاً کسی کواس قدر مارا کہ خوناخون ہوگیا یا چند بارجُرم کا ارتکاب کیا یاشراب خواری کے جلسہ(9) میں بیٹھتا ہے یا لواطت(10) میں مبتلا ہے تواب جرم کے لائق سزا دی جائے گی ایسی صورتوں میں دُرے لگائے جائیں یا قید کیا جائے۔ اُون علما و سادات کے بعد دوسرا مرتبہ زمیندارو تجار اور مالداروں کا ہے کہ ان پر دعویٰ کیا جائے گا اور دربار قاضی میں طلب کیے جائیں گے پھر قاضی انھیں متنبہ(11) کریگا کہ کیا تم نے ایسا کیا ہے ایسانہ کرو۔ تیسرا درجہ متوسط لوگوں کا ہے یعنی بازاری لوگ کہ ایسے لوگوں کے لیے قید ہے۔ چوتھا درجہ ذلیلوں اور کمینوں(12) کا ہے کہ اونھیں مارا بھی جائے مگر جرم جب اس قابل ہوجب ہی یہ سزاہے۔ (13)(ردالمحتار)