Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
403 - 466
اور اگرکوئی اپنے محارم سے زنا کرے تو اوسے قتل کرڈالو۔'' (1)

    حدیث ۲: بیہقی نے روایت کی، کہ حضرت امیر المومنین علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ اگر ایک شخص دوسرے کو کہے اے کافر، اے خبیث، اے فاسق، اے گدھے تو اس میں کوئی حد مقرر نہیں، حاکم کو اختیار ہے جو مناسب سمجھے سزا دے۔(2) 

    حدیث ۳: بیہقی نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جو شخص غیر حد کو حد تک پہنچا دے (یعنی وہ سزا دے جو حدمیں ہے) وہ حد سے گزرنے والوں میں ہے۔'' (3)

    مسئلہ ۱: کسی گناہ پر بغرض تادیب جو سزا دی جاتی ہے اوس کو تعزیرکہتے ہیں شارع نے اس کے لیے کوئی مقدار معین نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جیسا موقع ہو اوس کے مطابق عمل کرے۔ تعزیر کا اختیارصرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بی بی کو آقا غلام کو ماں باپ اپنی اولاد کو اُستاذشاگرد کو تعزیر کرسکتا ہے۔(4) (ردالمحتار وغیرہ)

    اس زمانہ میں کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت نہیں اور لوگ بے دھڑک بلاخوف وخطر معاصی(5) کرتے اور اون پر اصرار کرتے ہیں اور کوئی منع کرے تو باز نہیں آتے۔ اگر مسلمان متفق ہوکر ایسی سزائیں تجویز کریں جن سے عبرت ہو اور یہ بیباکی اور جرأت(6) کا سلسلہ بند ہوجائے تو نہایت مناسب واَنسب (7)ہوگا۔ بعض قوموں میں بعض معاصی پر ایسی سزائیں دی جاتی ہیں مثلاً حقہ پانی(8) اوس کا بند کردیتے اور نہ اوس کے یہاں کھاتے نہ اپنے یہاں اوس کو کھلاتے ہیں جب تک توبہ نہ کرلے اور اس کی وجہ سے اون لوگوں میں ایسی باتیں کم پائی جاتی ہیں جن پر اون کے یہاں سزا ہواکرتی ہے مگر کاش وہ تمام معاصی کے انسداد(9) میں ایسی ہی کوشش کرتے اور اپنے پنچائتی قانون(10) کو چھوڑ کر شرع مطہر(11)کے موافق فیصلے دیتے اور احکام سناتے تو بہت بہتر ہوتا۔ نیز دوسری قومیں بھی اگر ان لوگوں سے سبق حاصل کریں اور یہ بھی اپنے اپنے مواقع اقتدار میں ایسا ہی کریں تو بہت ممکن ہے کہ مسلمانوں کی حالت درست ہوجائے بلکہ ایک یہی کیا اگر اپنے دیگر معاملات و منازعات(12 )میں بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء فیمن یقول لآخر یا مخنّث، الحدیث:۱۴۶۷،ج۳،ص۱۴۱. 

2۔۔۔۔۔۔''السنن الکبرٰی'' للبیھقی،کتاب الحدود،باب من حد فی التعریض،الحدیث ۱۷۱۴۹،۱۷۱۵۰،ج۸،ص۴۴۰.

3۔۔۔۔۔۔''السنن الکبری''،للبیھقي،کتاب الأشربۃ، باب ماجاء فی التعزیر ... إلخ،الحدیث ۱۷۵۸۴،ج۸،ص۵۶۷. 

4۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۵،وغیرہ.
5۔۔۔۔۔۔گناہ۔

6 ۔۔۔۔۔۔یعنی سر عام گناہ کرنے اور ان پر دلیر ہونے۔

7۔۔۔۔۔۔بہت زیادہ مناسب۔

 8۔۔۔۔۔۔یعنی بول چال،لین دین،ملنا جلنا۔

9۔۔۔۔۔۔روک تھام۔

10۔۔۔۔۔۔کسی قوم یاگاؤں کی انتظامی مجلس کے قوانین۔

 11۔۔۔۔۔۔یعنی اسلامی قانون۔

12۔۔۔۔۔۔لڑائی جھگڑے وغیرہ۔
Flag Counter