| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
ہاں عبادات میں قبول کرلیں گے۔ یوہیں اگر کافر پر حد قذف جاری ہوئی تو کافروں کے خلاف بھی اس کی گواہی مقبول نہیں۔ ہاں اگر اسلام لائے تواس کی گواہی مقبول ہے اور اگر کفر کے زمانہ میں تہمت لگائی اور مسلمان ہونے کے بعد حد قائم ہوئی تو اسکی گواہی بھی کبھی کسی معاملہ میں مقبول نہیں۔ یوہیں غلام پر حدِ قذف جاری ہوئی پھر آزاد ہوگیا تو گواہی مقبول نہیں۔ اور اگر کسی پر حد قائم کی جا رہی تھی اور درمیان میں بھاگ گیا تو اگر بعد میں باقی حد پوری کرلی گئی تو اب گواہی مقبول نہیں اور پوری نہیں کی گئی تو مقبول ہے۔ حد قائم ہونے کے بعداپنی سچائی پر چار گواہ پیش کیے جنھوں نے زنا کی شہادت دی تو اب اس تہمت لگانے والے کی گواہی آئندہ مقبول ہوگی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۳۴: بہتر یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی گئی مطالبہ نہ کرے اور اگر دعویٰ کردیا تو قاضی کے لیے مستحب یہ ہے کہ جب تک ثبوت نہ پیش ہومدعی کو درگزر کرنے کی طرف توجہ دلائے۔(2) (عالمگیری)تعزیر کا بیان
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾) (3)
اے ایمان والو! نہ مرد مرد سے مسخرہ پن کریں، عجب نہیں وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ دو اور بُرے لقبوں سے نہ پکارو کہ ایمان کے بعد فاسق کہلانا برا نام ہے اور جو توبہ نہ کرے، وہی ظالم ہے۔
احادیث
حدیث ۱: ترمذی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب ایک شخص دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اوسے بیس ۲۰ کوڑے مارو ا ورمخنث کہہ کر پکارے تو بیس ۲۰ مارو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۶. 2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۷. 3۔۔۔۔۔۔پ۲۶،الحجرات:۱۱.