حق اﷲکو ساقط کرنا ان کے اختیار میں نہیں۔ (1)(بحر وغیرہ)
مسئلہ۲۹: شوہرنے عورت کو زانیہ کہا، عورت نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ تو، تو عورت پر حد ہے مرد پر نہیں اور لعان بھی نہ ہوگا کہ حدِ قذف کے بعد عورت لعان کے قابل نہ رہی۔ اور اگر عورت نے جواب میں کہا کہ میں نے تیرے ساتھ زنا کیا ہے تو حدو لعان کچھ نہیں کہ اس کلام کے دواحتمال ہیں ایک یہ کہ نکاح کے پہلے تیرے ساتھ زنا کیا دوسرا یہ کہ نکاح کے بعد تیرے ساتھ ہم بستری ہوئی اور اس کو زنا سے تعبیر کیا توجب کلام محتمل ہے تو حد ساقط۔ ہاں اگر جواب میں عورت نے تصریح (2)کردی کہ نکاح سے پہلے میں نے تیرے ساتھ زنا کیا تو عورت پر حد ہے اور اگر اجنبی عورت سے مرد نے یہ بات کہی اور اس عورت نے یہی جواب دیا تو عورت پر حد ہے کہ وہ زنا کا اقرار کرتی ہے اور مرد پر کچھ نہیں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۰: زنا کی تہمت لگائی اور چار گواہ زنا کے پیش کردیے یا مقذوف نے(4) زناکاچار بار اقرار کرلیا تو جس پر تہمت لگائی ہے اوس پر زنا کی حد قائم کی جائے گی اور تہمت لگانے والا بری ہے۔ اور اگرفی الحال گواہ لانے سے عاجز ہے اور مہلت مانگتا ہے کہ وقت دیا جائے تو شہر سے گواہ تلاش کرلاؤں تو اوسے کچہری کے وقت تک مہلت دی جائے گی اور خود اوسے جانے نہ دینگے بلکہ کہا جائیگا کہ کسی کو بھیج کرگواہوں کو بُلالے۔ اور اگر چارفاسق گواہ پیش کردیے تو سب سے حد ساقط ہے نہ قاذف پر (5) حد ہے نہ مقذوف پر نہ گواہوں پر۔ (6)(درمختار)
مسئلہ۳۱: کسی نے دعویٰ کیا کہ مجھ پر فلاں نے زنا کی تہمت لگائی اور ثبوت میں دو۲گواہ پیش کیے مگر گواہوں کے مختلف بیان ہوئے ایک کہتا ہے فلاں جگہ تہمت لگائی دوسرا دوسری جگہ کانام لیتا ہے تو حد قذف قائم کریں گے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۳۲: حدِ قذف میں سوا پوستین اور روئی بھرے ہوئے کپڑے کے کچھ نہ اوتاریں۔ (8)(بحر)
مسئلہ۳۳: جس شخص پر حد قذف قائم کی گئی اوس کی گواہی کسی معاملہ میں مقبول نہیں