اس کے بعد امام کو اختیار ہے کہ پہلے زنا کی حد قائم کرے یا چوری کی بنا پر ہاتھ پہلے کاٹے یعنی ان دونوں میں تقدیم و تاخیرکا اختیار ہے (1) پھر سب کے بعد شراب پینے کی حد ماریں۔(2)(درمختار)
مسئلہ۲۵: اگر اوس نے کسی کی آنکھ بھی پھوڑی ہے اور وہ چاروں چیزیں بھی کی ہیں تو پہلے آنکھ پھوڑنے کی سزادی جائے یعنی اس کی بھی آنکھ پھوڑدی جائے پھر حد قذف قائم کی جائے اس کے بعد رجم کردیا جائے اگرمحصن ہواور باقی حدیں ساقط اور محصن نہ ہو تو اوسی طرح عمل کریں۔ اور اگر ایک ہی قسم کی چند حدیں ہوں مثلاً چند شخصوں پر تہمت لگائی یا ایک شخص پر چند بار تو ایک حد ہے ہاں اگر پوری حد قائم کرنے کے بعد پھر دوسرے شخص پر تہمت لگائی تواب دوبارہ حدقائم ہوگی اور اگر اوسی پر دوبارہ تہمت ہو تو نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ۲۶: باپ نے بیٹے پر زنا کی تہمت لگائی یا مولیٰ نے غلام پر تو لڑکے یا غلام کو مطالبہ کا حق نہیں۔ یوہیں ماں یا دادا یا دادی نے تہمت لگائی یعنی اپنی اصل سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگرمری زوجہ پر تہمت لگائی تو بیٹا مطالبہ نہیں کرسکتا ہاں اگر اوس عورت کا دوسرے خاوند سے لڑکا ہے تو یہ لڑکا یا عورت کا باپ ہے تو یہ مطالبہ کرسکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۲۷: تہمت لگانے والے نے پہلے اقرار کیا کہ ہاں تہمت لگائی ہے پھر اپنے اقرار سے رجوع کر گیا یعنی اب انکار کرتا ہے تو اب رجوع معتبر نہیں یعنی مطالبہ ہو تو حد قائم کریں گے۔ یوہیں اگر باہم صلح کرلیں اور کچھ معاوضہ لیکر معاف کردے یا بلامعاوضہ معاف کردے تو حد معاف نہ ہوگی یعنی اگرپھر مطالبہ کرے تو کرسکتا ہے اور مطالبہ پر حد قائم ہوگی۔ (5) (فتح القدیر وغیرہ)
مسئلہ۲۸: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تو زانی ہے اوس نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ تو ہے تو دونوں پر حدہے کہ ہر ایک نے دوسرے پر تہمت لگائی اور اگرایک نے دوسرے کو خبیث کہا دوسرے نے کہا نہیں بلکہ تو ہے تو کسی پر سزا نہیں کہ اس میں دونوں برابر ہوگئے اور تہمت میں چونکہ حق اﷲغالب ہے لہٰذا حد ساقط نہ ہوگی کہ وہ اپنے حق کو ساقط کرسکتے ہیں