جس کے نسب پر اوس تہمت کی وجہ سے حرف آتا ہے(1) تو اوس کے مطالبہ پر بھی حد قائم کردی جائے گی مثلاً اس کے دادا یا دادی یا باپ یا ماں یا بیٹا یا بیٹی پر تہمت لگائی اور جسے تہمت لگائی مرچکا ہے تو اس کو مطالبہ کا حق ہے۔ وارث سے مراد وہی نہیں جسے ترکہ پہنچتاہے بلکہ محجوب(2) یامحروم(3) بھی مطالبہ کرسکتاہے مثلاً میت کا بیٹا اگر مطالبہ نہ کرے تو پوتا مطالبہ کرسکتا ہے اگرچہ محجوب ہے یا اس وارث نے اپنی مورث (4)کو مارڈالا ہے یا غلام یا کافر ہے تو ان کو مطالبہ کا استحقاق ہے(5) اگرچہ محروم ہیں۔ یوہیں نواسہ اور نواسی کو بھی مطالبہ کاحق ہے۔(6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۲۱: قریبی رشتہ دار نے مطالبہ نہ کیا یا معاف کردیا تو دور کے رشتہ والے کا حق ساقط نہ ہوگا بلکہ یہ مطالبہ کرسکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ۲۲: کسی کے باپ اور ماں دونوں پر تہمت لگائی اور دونوں مرچکے ہیں تو اس کے مطالبہ پر حد قائم ہوگی مگر ایک ہی حد ہوگی دونہیں۔ یوہیں اگر وہ دونوں زندہ ہیں جب بھی دونوں کے مطالبہ پرایک ہی حد ہوگی کہ جب چند حدیں جمع ہوں توایک ہی قائم کی جائے گی۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۲۳: کسی پر ایک نے تہمت لگائی اور حد قائم ہوئی پھر دوسرے نے تہمت لگائی تو دوسرے پر بھی حد قائم کریں گے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ۲۴: اگر چند حدیں مختلف قسم کی جمع ہوں مثلاً اوس نے تہمت بھی لگائی ہے اور شراب بھی پی اور چوری بھی کی اور زنا بھی کیا تو سب حدیں قائم کی جائیں گی مگر ایک ساتھ سب قائم نہ کریں کہ اس میں ہلاک ہوجانے کا خوف ہے بلکہ ایک قائم کرنے کے بعد اتنے دنوں اوسے قید میں رکھیں کہ اچھا ہو جائے پھر دوسری قائم کریں اور سب سے پہلے حدِ قذف جاری کریں