| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
پھر اگر کسی ذلیل قوم کی طرف نسبت کیا تو مستحقِ تعزیرہے جبکہ حالت غصہ میں کہا ہو کہ یہ گالی ہے اور گالی میں سزا ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار) اگر کسی شخص نے بہادری کا کام کیا اوس پر کہا کہ یہ پٹھان ہے تو اس میں کچھ نہیں کہ یہ نہ تہمت ہے، نہ گالی۔
مسئلہ ۱۷: کسی عفیفہ(2) عورت کو رنڈی(3) یا کسبی(4) کہا تو یہ قذف ہے اور حد کا مستحق ہے کہ یہ لفظ اُنھیں کے لیے ہے جنھوں نے زنا کو پیشہ کرلیا ہے۔
مسئلہ ۱۸: ولد الزنا(5) یا زناکا بچہ کہا یا عورت کو زانی کہا تو حدہے اور اگر کسی کو حرام زادہ کہا تو حد نہیں کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وطی حرام سے پیدا ہوا اور وطی حرام کے لیے زنا ہونا ضرور نہیں اس لیے کہ حیض میں وطی حرام ہے اور جب اپنی عورت سے ہے تو زنا نہیں۔(6) (درمختار وغیرہ) اور حرام زادہ میں حدنہ ہونے کی یہ وجہ بھی ہے کہ عرف میں بعض لوگ شریر کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یوہیں حرامی یا حیضی بچہ (7)یا ولدالحرام(8) کہنے پر بھی حد نہیں۔
مسئلہ۱۹: عورت کو اگرجانور بیل۔ گھوڑے۔گدھے سے فعل کرانے کی گالی دی تو اس میں سزا دی جائے گی۔(9)
مسئلہ۲۰: جس کو تہمت لگائی وہ اگر مطالبہ کرے تو حد قائم ہوگی ورنہ نہیں یعنی اوس کی زندگی میں دوسرے کو مطالبہ کا حق نہیں اگرچہ وہ موجود نہ ہو کہیں چلاگیا ہو یا تہمت کے بعد مرگیا بلکہ مطالبہ کے بعد بلکہ چند کوڑے مارنے کے بعد انتقال ہوا تو باقی ساقط ہے۔ ہاں اگر اوس کا انتقال ہوگیا اور اوس کے ورثہ میں وہ شخص مطالبہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۹.
2۔۔۔۔۔۔پاکدامن۔ 3۔۔۔۔۔۔یعنی بدکار عورت۔ 4۔۔۔۔۔۔فاحشہ،بازاری عورت۔ 5۔۔۔۔۔۔زنا سے پیدا ہو نے والا ۔
6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۹و۸۸،وغیرہ.
7۔۔۔۔۔۔ حالت حیض میں جماع کرنے سے پیدا ہونے والا بچہ۔ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کرنا حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا:''جو شخص حیض والی عورت سے یا عورت کے پیچھے کے مقام میں جماع کرے یاکاہن کے پاس جائے اس نے اس چیز کا کفرکیا جومحمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل کی گئی''۔(جا مع الترمذی،الحدیث:۱۳۵،ج۱،ص۱۸۵)اگر کوئی ایسا کرے توکفارہ دے،اور استغفارواجب ہے، سنن ابوداودشریف میں روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جب کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض میں جماع کرے تو نصف دینار صدقہ کرے ''۔(الحدیث:۲۶۶،ج۱،ص۱۲۴)نیزجا مع الترمذی شریف میں ہے''جب سرخ خون ہو تو ایک دینار اور زرد ہوتونصف دینار صدقہ کرے ''۔ (الحدیث: ۱۳۷،ج۱،ص۱۸۷)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن فتاوی رضویہ ج ۴ ص۳۵۶پر فرماتے ہیں:اگر ابتدائے حیض میں ہے توایک دیناراور ختم پر ہے تو نصف دینار،اور دینار دس درم کا ہوتا ہے اور دس درم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑیاں کم۔ حیض کے تفصیلی احکام بہار شریعت ج اوّل حصہ ۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔...عِلْمِیہ 8۔۔۔۔۔۔حرام وطی سے پیدا ہونے والا ۔
9۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۹.