یا عورت روزہ دارتھی اور شوہر کو معلوم بھی تھا اور جماع کیا تو ان صورتوں میں تہمت لگانے والے پر حد ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: زنا کی تہمت لگائی اور حد قائم ہونے سے پہلے اوس شخص نے زنا کیا جس پر تہمت لگائی۔ یا کسی ایسی عورت سے وطی کی جس سے وطی حرام تھی۔ یا معاذاﷲ مرتد ہوگیا اگر چہ پھر مسلمان ہوگیا تو ان سب صورتوں میں حد ساقط ہوگئی(2) ۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۳: حدِ قذف اوس وقت قائم ہوگی جب صریح لفظ زنا سے تہمت لگائی مثلاً تُوزانی ہے یا تُونے زنا کیا یا تُوزناکار ہے اور اگر صریح لفظ نہ ہو مثلاً یہ کہ تُو نے وطی حرام کی یا تُو نے حرام طور پر جماع کیا تو حد نہیں اور اگر یہ کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تُو زانی ہے یا مجھے فلاں نے اپنی شہادت پر گواہ بنایا ہے کہ تُو زانی ہے یا کہا تُو فلاں کے پاس جاکر اوس سے کہہ کہ تُو زانی ہے اور قاصد نے یوہیں جاکر کہہ دیا تو حد نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: اگر کہا کہ تو اپنے باپ کا نہیں یا اوس کے باپ کا نام لے کر کہا کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں حالانکہ او س کی ماں پاک دامن عورت ہے اگر چہ یہ شخص جس کو کہا گیا کیسا ہی ہو تو حد ہے جبکہ یہ الفاظ غصہ میں کہے ہوں اور اگر رضا مندی میں کہے تو حد نہیں کیونکہ اس کے یہ معنے بن سکتے ہیں کہ تو اپنے باپ سے مشابہ نہیں(5) مگر پہلی صورت میں شرط یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی وہ حد کا طالب ہو اگرچہ تہمت لگانے کے وقت وہاں موجود نہ تھا۔ اور اگر کہا کہ تو اپنے باپ ماں کا نہیں یا تو اپنی ماں کا نہیں تو حد نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: اگر دادا یا چچا یا ماموں یا مربی(7) کا نام لیکر کہا کہ تواوس کا بیٹا ہے تو حد نہیں کیونکہ ان لوگوں کو بھی مجازاً باپ کہہ دیا کرتے ہیں۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: کسی شخص کو اوس کی قوم کے سوا دوسری قوم کی طرف نسبت کرنا یا کہنا کہ تو اوس قوم کا نہیں ہے سبب حد نہیں۔