یا جو باندی اس کے باپ کی موطوہ تھی اوسے اس نے خریدا اور وطی کی۔ یا اوس کی ماں سے اس نے خود وطی کی تھی اب اس لڑکی کو خریدا اور وطی کی۔ ان سب صورتوں میں اگر کسی نے اس شخص پر زنا کی تہمت لگائی تو اوس پر حد نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: حرہ(2) اس کے نکاح میں ہے اسکے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کیا۔ یا ایسی دوعورتوں کو نکاح میں جمع کیا جن کا جمع کرنا حرام تھا جیسے دو۲ بہنیں یاپھوپی بھتیجی اور وطی کی۔ یا اس کے نکاح میں چار عورتیں موجود ہیں اور پانچویں سے نکاح کرکے جماع کیا۔ یا کسی عورت سے نکاح کرکے وطی کی بعد کو معلوم ہواکہ یہ عورت مصاہرت کی وجہ سے اس پر حرام تھی۔ پھر کسی نے زنا کی تہمت لگائی تو تہمت لگانے والے پر حد نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: کسی عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کیا۔ یا شوہر والی عورت سے جان بوجھ کر نکاح کیا۔ یا جان بوجھ کر عدّت کے اندر یا اوس عورت سے نکاح کیا جس سے نکاح حرام ہے اور ان سب صورتوں میں وطی بھی کی تو تہمت لگانے والے پر حد نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: جس عورت پر حد زنا قائم ہوچکی ہے اوس کو کسی نے تہمت لگائی۔ یا ایسی عورت پر تہمت لگائی جس میں زنا کی علامت موجود ہے مثلاً میاں بی بی میں قاضی نے لعان کرایا اور بچہ کا نسب باپ سے منقطع کرکے عورت کی طرف منسوب کردیا۔ یا عورت کے بچہ ہے جس کا باپ معلوم نہیں تو ان سب صورتوں میں تہمت لگانے والے پر حد نہیں۔ اور اگر لعان بغیر بچہ کے ہوا۔ یا بچہ موجود تھا مگر اوس کا نسب باپ سے منقطع نہ کیا یا نسب بھی منقطع کر دیا مگر بعد میں شوہر نے اپنا جھوٹا ہونا بیان کیا اور بچہ باپ کی طرف منسوب کردیا گیا تو ان صورتوں میں عورت پر تہمت لگانے سے حد ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جس عورت کو اس نے شہوت کے ساتھ چھوا یا شرمگاہ کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کی اب اوس کی ماں یا بیٹی کو خرید کر یا نکاح کرکے وطی کی۔ یا جس عورت کو اس کے باپ یا بیٹے نے اوسی طرح چھوا یا نظر کی تھی اوس کو اس نے خرید کر یا نکاح کرکے وطی کی اور کسی نے زنا کی تہمت لگائی تو اوس پر حد ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: اپنی عورت سے حیض میں جماع کیا۔ یا عورت سے ظہار کیا تھا اور بغیر کفارہ دیے جماع کیا