| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص اپنے مملوک پر زنا کی تہمت لگائے، قیامت کے دن اوس پر حد لگائی جائے گی مگر جبکہ واقع میں وہ غلام ویسا ہی ہے، جیسا اوس نے کہا۔'' (1)
حدیث ۲: عبدالرزاق عکرمہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ایک عورت نے اپنی باندی کو زانیہ کہا۔ عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے فرمایا: تو نے زنا کرتے دیکھا ہے؟ اوس نے کہا، نہیں۔ فرمایا:قسم ہے اوس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے!قیامت کے دن اس کی وجہ سے لوہے کے اَسی ۸۰ کوڑے تجھے مارے جائیں گے۔ (2)مسائلِ فقہیّہ
مسئلہ ۱: کسی کو زنا کی تہمت لگانے کو قذف کہتے ہیں اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ یوہیں لواطت کی تہمت بھی کبیرہ گناہ ہے مگر لواطت کی تہمت لگائی تو حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور زنا کی تہمت لگانے والے پر حد ہے۔ حد قذف آزاد پر اَسی ۸۰ کوڑے ہے اور غلام پر چالیس۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: زنا کے علاوہ اور کسی گناہ کے اتہام(4) کو قذف نہ کہیں گے نہ اس پر حدہے البتہ بعض صورتوں میں تعزیر ہے(5) جس کا بیان انشاء اﷲتعالیٰ آئے گا۔(بحر)
مسئلہ ۳: قذف کا ثبوت دو۲مردوں کی گواہی سے ہوگا یا اوس تہمت لگانے والے کے اقرار سے۔ اور اس جگہ عورتوں کی گواہی یا شہادۃ علی الشہادۃ(6) کافی نہیں بلکہ ایک قاضی نے اگر دوسرے قاضی کے پاس لکھ بھیجا کہ میرے نزدیک قذف کاثبوت ہوچکا ہے اور کتاب القاضی کے شرائط بھی پائے جائیں جب بھی یہ دوسرا قاضی حد قذف قائم نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان،باب التغلیظ علی من قذف... إلخ،الحدیث:۳۷۔(۱۶۶۰)،ص۹۰۵. 2۔۔۔۔۔۔''المصنّف''،لعبدالرزاق،کتاب العقول،[باب قذف الرجل مملوکہ]،الحدیث:۱۸۲۹۱،ج۹،ص۳۲۰. 3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۶۹. 4۔۔۔۔۔۔تہمت لگانا۔ 5۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۵،ص۴۹.
6۔۔۔۔۔۔اصل گواہ قاضی کے پاس حاضر نہ ہو سکے وہ کسی دوسرے سے کہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں تم میری طرف سے قاضی کے دربارمیں یہ گواہی دے دینا۔