حدیث ۶: ترمذی نے عبداﷲ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبدا للہ بن عمرو رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص شراب پیے گا، اوس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ (عزوجل) اوس کی توبہ قبول فرمائیگا پھر اگر پیے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پیے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو اﷲ (عزوجل) قبول فرمائیگا پھر اگر چوتھی مرتبہ پیے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اب اگر توبہ کرے تو اﷲ (عزوجل) اوس کی توبہ قبول نہیں فرمائیگا اور نہر خبال سے اوسے پلائیگا۔'' (1)
حدیث ۷: ابو داود نے ویلم حمیری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) ہم سرد ملک کے رہنے والے ہیں اور سخت سخت کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں (2)کی شراب بناتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کام کرنے کی قوت حاصل ہوتی ہے اور سردی کا اثر نہیں ہوتا۔ ارشاد فرمایا: ''کیا اُس میں نشہ ہوتا ہے؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''تو اس سے پرہیز کرو۔''میں نے عرض کی، لوگ اسے نہیں چھوڑینگے۔ فرمایا: ''اگر نہ چھوڑیں تو اُ ن سے قتال کرو۔'' (3)
حدیث ۸: دارمی نے عبداﷲبن عمرو رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا:''والدین کی نافرمانی کرنے والا اور جوا کھیلنے والا اور احسان جتانے والا اور شراب کی مداومت کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔'' (4)
حدیث ۹: امام احمد نے ابوامامہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:''قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کی ایک گھونٹ بھی پیے گا، میں اوسکو اوتنی ہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اوسے چھوڑے گا، میں اوس کو حوض قدس(5) سے پلاؤں گا۔''(6)
حدیث ۱۰: امام احمد و نسائی و بزار و حاکم ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے فرمایا:''تین شخصوں پر اﷲ (عزوجل) نے جنت حرام کردی۔ شراب کی مداومت کرنے والا اور والدین کی نافرمانی کرنے والا